’حکومت پر مزید دباؤ ڈالیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ قوم پرستوں نے ایمینسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے جس میں حکومت پاکستان سے دہشتگردی کے الزام میں لاپتہ ہونے والے ہزاروں افراد کو منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بلوچ رہنماؤں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو منظر عام پر لانے کے لیے حکومتِ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالیں۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حاصل بزنجو کے مطابق حکومت قبائلی علاقوں میں شدت پسند طالبان سے تو مذاکرات کر رہی ہے لیکن بلوچستان کے لوگ جو حقوق کی جنگ لڑر ہے ہیں ان سے ابھی تک کوئی مذاکرات شروع نہیں ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک ڈیرہ بگٹی اور کوہلو سمیت صوبے کے دیگر علاقوں سے لوگوں کواٹھایا جا رہا ہے اور صرف چند لوگوں کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نئی حکومت کے آنے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ یہاں صورتحال وہی ہے جو بارہ اکتوبر سے پہلے تھی۔ ان کے بقول موجودہ حکومت بھی اس سلسلے میں بے اختیار ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی، کوہلو کاہان اور صوبے کے دیگرعلاقوں سے سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سو کے قریب خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں انسانی حقوق کے سابق وائس چیئرپرسن ملک ظہور شاہوانی کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی اپیل پر بلوچستان کے سابق وزیراعلی سردار اختر مینگل سمیت کئی سیاسی کارکن رہا ہو چکے ہیں لیکن بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں سے لاپتہ ہونے والوں میں فرق ہے کیونکہ وہاں سے زیادہ تر لوگ القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں لاپتہ ہیں جبکہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے سینکڑوں افراد میں سے زیادہ تر وہ سیاسی کارکن ہیں جو بلوچستان کے وسائل میں سے اپنا حق مانگتے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچوں کا کراچی میں مظاہرہ23 July, 2008 | پاکستان پاکستان لاپتہ افراد کورہا کرائے:ایمنٹسی23 July, 2008 | پاکستان بچوں کی بھرتی، کانسٹیبلری پر الزام 23 July, 2008 | پاکستان گوانتانامو:چھیاسٹھ رہا، چھ تاحال قید19 July, 2008 | پاکستان ’ کیا ہم غیر معینہ مدت تک انتظار کریں‘ 18 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||