کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں حکومت سے مذاکرات کے بعد ٹرانسپورٹروں نے ہڑتال کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹروں نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اختر علی جدون نے سے مذاکرات کے بعد کیا۔ صوبائی وزیر نے ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال ختم کرانے کے لیےٹرانسپورٹ اتحاد کے دفتر جاکر مذاکرات کیئے۔ صوبائی وزیر اختر جدون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرایوں میں مناسب اضافہ کیا جائے گا۔ کراچی میں منگل کو بسوں، منی بسوں اور کوچوں کے مالکان نے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس کے خلاف ہڑتال کی ۔ ٹرانسپورٹروں کا مطالبہ تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔ پاکستان میں اتوار کی شب تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 86.66 روپے، ڈیزل کی 56.50 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 58.37 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس اضافے پر ملک بھر میں عوام، سیاسی اور تجارتی تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ رکشہ ٹیکسی مالکان نے بھی کرایوں میں یکمشت دوگنا اضافہ کردیا ہے۔ کراچی میں لوگوں کی اکثریت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہے اور ہڑتال کی وجہ سے کئی سرکاری اور نجی ملازم دفاتر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
ٹرانسپورٹروں کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ان کے لیے بسیں چلانا گھاٹے کا سودہ بن گیا ہے۔ | اسی بارے میں سرحد: نوے فیصد پیٹرول پمپ بند18 June, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ29 June, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں اضافہ01 March, 2008 | پاکستان پیٹرول قیمتوں کے خلاف درخواست21 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||