سرحد: نوے فیصد پیٹرول پمپ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد پٹرولیم کاٹیج اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن نےکہا ہے کہ صوبے میں تیل کے شدید بحران کی وجہ سے نوے فیصد پٹرول پمپ بند پڑے ہیں اور صوبے کو روزانہ پچیس لاکھ لیٹر کی بجائے سات لاکھ لیٹر تیل مل رہا ہے۔ یہ بات سرحد پٹرولیم کاٹیج اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چئرمین منصور شریف نے پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کوخصوصی طور پر ایسے وقت تیل کے شدید بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صوبہ بھر میں قائم نوے فیصد پٹرول پمپ بند ہوگئے ہیں اور جہاں پرتیل دستیاب ہے وہاں بھی ضرورت سے ساٹھ فیصد کم مل رہا ہے۔ تیل کے بحران کی وجوہات بتاتے ہوئے منصور شریف کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملک میں مہنگائی کے اضافے کے علاوہ افعانستان کو تیل کی سمگلنگ صوبہ سرحد میں بحران کی سب بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومت نے بعض ایسی ’گھوسٹ کمپنیوں‘ کو آئل مارکیٹنگ کے لائسنس جاری کیے ہیں جن کے سٹوریج ڈپو ہیں اور نہ دفاتر۔ منصور شریف نے یہ الزام لگا یا ہے کہ ’گھوسٹ کمپنیاں‘ جعلی انوائس پر تیل حاصل کر کے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے افغانستان سمگل کرتی ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے اور ان کمپنیوں کو بڑی کمپنیوں میں ضم کردے۔ | اسی بارے میں کم منافع، پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال31 August, 2007 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں اضافہ01 March, 2008 | پاکستان تیل پھر مہنگا کرنا پڑے گا:وزیر خزانہ26 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||