BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2008, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مرکز غازی شہید‘

’مرکز غازی شہید‘ نامی اس تنظیم کے بورڈ آف ٹرسٹیز
ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں حمیرا رشید، غازی رشید کی بہن جمیلہ شاہد، یاسمین عادل اور حشمت حبیب ایڈووکیٹ شامل ہوں گے
لال مسجد کارروائی میں گزشتہ برس ہلاک ہونے والے نائب خطیب عبدالرشید غازی کی اہلیہ نے ان کی یاد میں ’شہداء‘ کے بچوں کی کفالت کے لیے مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حمیرا رشید غازی نے ایک اخباری کانفرنس میں شکایت کی کہ گزشتہ ایک برس کے دوران کسی ریاستی ادارے، سیاسی یا دینی جماعت اور نہ ہی کسی عالمی انسانی تنظیم نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے متاثرین کی بحالی اور کفالت کی کوئی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے سینکڑوں خاندان دربدر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئی غیرسرکاری اور غیرسیاسی تنظیم کی بنیاد غازی عبدالرشید کی وصیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کا کام ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کی کفالت، ان کے بچوں کے لیے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنا، طبی سہولتوں کی فراہمی، جنگ زدہ علاقوں میں امدادی مراکز قائم کرنا، لاپتہ افراد کی بازیابی اور قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔

غازی عبدالرشید لال مسجد کے محاصرے کے آخری دن سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے تھے۔

لال مسجد آپریشن کے ایک سال بعد بچے وہاں عبادت کر رہے ہیں
’مرکز غازی شہید‘ نامی اس تنظیم کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں حمیرا رشید، غازی رشید کی بہن جمیلہ شاہد، یاسمین عادل اور حشمت حبیب ایڈووکیٹ شامل ہوں گے۔

حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم عمومی طور پر تمام اور خصوصی طور پر لال مسجد کے متاثرین کے لیے ہوگی۔ انہوں نے اس تنظیم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی اپیل کی اور یہ بھی کہا کہ انہیں کسی مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہے۔

غازی رشید کی اہلیہ حمیرا جنہیں لال مسجد کارروائی کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت میں آٹھ مقدمات کا سامنا ہے کہنا تھا کہ نئی حکومت نے اس بابت ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں کسی رابطے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ لال مسجد میں ہلاکتوں کی تعداد سرکاری تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ پانچ سو سے زائد گرفتار افراد میں سے پچاس اب بھی جیل میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں اس تنظیم کی شاخیں قائم کی جائیں گی تاکہ بقول ان کے خوف خدا کے حامل لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ایسا مضبوط ادارہ بنائیں جو غازی عبدالرشید کے مشن کو جاری رکھ سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد