BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 July, 2008, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیر پاؤ کے خلاف درخواستیں خارج

آفتاب شیر پاؤ
شیر پاؤ کے خلاف پشاور کے علاقے حیات آباد میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے پلاٹ خریدنے کا ریفرنس بھیجا گیا گیا تھا
پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کے خلاف نیب کی طر ف سے دائر تین درخواستیں خارج کر دیں۔

یہ درخواستیں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں جس میں عدالت نے آفتاب شیرپاؤ اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کو کرپشن ریفرنس میں بری کردیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے بدھ کے روز ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو نیب کے پراسیکوٹر جنرل ڈاکٹر دانشور ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظاہر شاہ کے خلاف کرپشن کے مقدمات ہیں جو این آر او کے دائرے میں نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کے خلاف ستائیس جنوری سنہ انیس سو ستانوے کو قومی احتساب بیورو نے پشاور کے علاقے حیات آباد میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے پلاٹ خریدنے کا ریفرنس بھیجا تھا جس پر انہیں نیب کی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ اس حوالے سے مذکورہ افراد کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ افراد نے نیب کے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تھی جس میں عدالت نے انہیں اس ریفرنس میں بری کردیا تھا تاہم نیب نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

آفتاب شیرپاؤ کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکلوں کا کیس قومی مفاہمتی آرڈیننس کے دائرے میں آتا ہے لذا اُنہیں بھی ریلیف فراہم کا جائے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد سیاستدانوں اوربیوروکریٹس کے خلاف مقدمات اسی این آر او کے تحت ختم ہوئے ہیں۔ عدالت نے آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے نیب کی تین درخواستیں مسترد کردیں۔

نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق راولپنڈی کی نیب کی عدالت نے نیو سٹی پروجیکٹ میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر حاجی نواز کھوکھر کی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں اس ریفرنس سے بری کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
کل کے مجرم، آج کے وزیر
31 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد