زرداری کے شریک ملزم کی درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی کے خلاف ایس جی ایس کیس میں شریک ملزم سوئٹزرلینڈ کے شہری جیمز نے بدھ کے روز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اس مقدمے سے بری کر دیا جائے۔ درخواست میں سوئٹزرلینڈ کے شہری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ خود عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے اس لیے انہیں اس مقدمے میں پیشی سے مشثنیٰ قرار دیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس مقدمے کے سرکردہ ملزم آصف علی زرداری قومی مفاہمتی آرڈینینس کے تحت بری ہوچکے ہیں لہذا انہیں بھی بری کر دیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے اور اُس کی سماعت گیارہ جولائی تک ملتوی کردی۔ نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس درخواست میں درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ چونکہ ایک غیر ملکی ہیں اور پاکستان میں رہائش پذیر نہیں ہیں اس لیے نیب کا قانون اُن پر لاگو نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایس جی ایس مقدمے میں ملوث ملزم کی درخواست کو سپیشل آپریشن ڈویژن کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ذوالفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ نیب کا یہی یونٹ سابق وزیر اعظم مرحومہ بیظیر بھٹو اور اُن کے خاوند اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف بیرون ممالک کیسوں کی پیروی کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس یونٹ کا ایک نمائندہ اس درخواست کی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوگا اور درخواست کے بارے میں نیب کا موقف عدالت میں پیش کرے گا۔ | اسی بارے میں زرداری پر چار مقدمات باقی ہیں14 March, 2008 | پاکستان اثاثوں کا مقدمہ: بینظیر و آصف بری04 July, 2007 | پاکستان زرداری کے خلاف کئی مقدمےختم 05 March, 2008 | پاکستان قانونی مشکلات ختم نہیں ہوئیں29 October, 2007 | پاکستان اسلام آباد کا مصروف ترین ’ہاؤس‘18 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||