BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 May, 2008, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نصرت بھٹو کے خلاف مقدمہ خارج

نصرت بھٹو
نصرت بھٹو پر ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز کے غیر قانونی اثاثے قائم کرنے کا الزام تھا
لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ بیگم نصرت بھٹو کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں دائر ریفرنس قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت ختم کر دیا ہے۔

یہ ریفرنس قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سنہ انیس ستانوے میں دائر کیا تھا جس میں بیگم نصرت بھٹو پر برطانیہ، فرانس اور سوئزرلینڈ میں ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز (سو ارب روپے سے زیادہ) کے غیر قانونی اثاثے قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

نصرت بھٹو اس ریفرنس کی سماعت کے سلسلہ میں کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئی تھیں۔

احتساب عدالت نے بیگم نصرت بھٹو کی علالت کی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنس داخل دفتر کردیا تھا تاہم پانچ سال کے وقفہ کے بعد اس ریفرنس پر دوبارہ کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔

نصرت بھٹو کے وکیل میاں جہانگیر نے احتساب عدالت لاہور میں قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات کے تحت ایک درخواست دائر کی جس میں نصرت بھٹو کے خلاف ریفرنس کو ختم کرنے اور ان کو بری کرنے کی استدعا کی گئی ۔

درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی دفعہ سات کے تحت درخواست گزار کے خلاف زیر سماعت ریفرنس قانونی طور پر غیرموثر ہوگئے ہیں۔‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد اب احتساب عدالت کونصرت بھٹو کے خلاف زیر سماعت ریفرنسوں پر کارروائی کا اختیار نہیں رہا۔

غیر مؤثر ریفرنس
 صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی دفعہ سات کے تحت درخواست گزار کے خلاف زیر سماعت ریفرنس قانونی طور پر غیرمؤثر ہوگئے ہیں

عدالت کے روبرو نیب کے وکیل نے اس درخواست کی مخالفت نہیں کی جس پر احتساب عدالت کے جج سلیم قریشی نے وکیل صفائی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نصرت بھٹو کے خلاف دائر ریفرنس کو ختم کر دیا۔

خیال رہے کہ اس ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے نصرت بھٹو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور دانستہ روپوشی کے الزام میں انہیں اٹھارہ نومبر سنہ دو ہزار کو دو سال قید اور جائیداد کی ضبطی کی سزا سنائی تھی۔

اسی ریفرنس کی سماعت کے دوران ایک موقع پر موجودہ وزیر قانون اور نصرت بھٹو کی وکیل نے عدالت میں یہ انکشاف کیا تھا کہ نصرت بھٹو اپنی یادداشت کھو چکی ہیں اور وہ دماغی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کے بعد پانچ اکتوبر کی شب قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات جاری کیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت ارکان اسمبلی اور ہولڈرز آف پبلک آفس کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ایسے ریفرنس خارج ہوسکیں گے جو یکم جنوری سنہ انیس سو چھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے دوران عدالتوں میں دائر کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
نصرت بھٹو کی یادداشت ختم
19 October, 2005 | پاکستان
تضادات سے بھرا انسان
04 April, 2005 | پاکستان
نئی پیپلزپارٹی کا قیام
01 June, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد