BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 July, 2008, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کے اشتہارات پر پابندی

پنجاب کا سرکاری نشان
یہ پہلا موقع ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے کسی صوبائی حکومت کے اشتہارات کا بائیکاٹ کیا ہے
پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے اپنی نوعیت کے ایک انوکھے فیصلے کے تحت پنجاب حکومت کے ہر طرح کے اشتہارات نشر کرنے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔

ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نے سنیچر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ عدم ادائیگی کی بنیاد پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ آج نصف شب کے بعد پنجاب حکومت اور ان کے کسی خود مختار یا نیم خودمختار ادارے کے کسی نجی ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو سٹیشن سے اشتہار نشر نہیں ہوں گے۔

اجارہ داری کی خواہاں
 پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن، میڈیا پر اجارہ داری کے خواہاں چند مالکان کی تنظیم ہے اور وہ ان کے فیصلوں کے پابند نہیں
عامر متین
پاکستان میں کچھ نجی ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کے مالکان کی تنظیم کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے جاری کردہ اشتہارات کے مد میں انیس کروڑ تریسٹھ لاکھ روپوں کے واجبات ادا نہیں کیے، اس لیے انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے۔

بیان کے مطابق ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور حکومتِ پنجاب کے درمیان اس بارے میں کئی بار رابطے اور بات چیت ہوئی لیکن یقین دہانیوں کے باوجود بھی تاحال ادائیگی نہیں ہوسکی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کافی وقت سے ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو اشتہارات کی عدم ادائیگی حکومت کے میڈیا کو مثالی آزادای دینے کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ان کے مطابق نشر کردہ اشتہارات کی عدم ادائیگی میڈیا کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔

پی ایم ایل(ق) کے اشتہار
 گزشتہ سال کے آخر اور رواں سال کے ابتداء میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے ملک بھر اور باالخصوص پنجاب میں اپنی کامیابیوں کے بارے میں طویل دورانیے کے بیسیوں اشتہارات جاری کیے تھے
ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت کے اشتہارات نشر کرنے پر پابندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام ٹی وی چینلز اور ایف ریڈیوز کو مکمل ادائیگی نہیں کی جاتی۔

پاکستان میں کچھ ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو ’پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن‘ کے رکن نہیں۔ ان میں سرائیکی زبان کا ٹی وی چینل روہی بھی شامل ہے۔ روہی ٹی وی کے چیف آپریٹنگ افسر عامر متین کا کہنا ہے کہ ’پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن، میڈیا پر اجارہ داری کے خواہاں چند مالکان کی تنظیم ہے اور وہ ان کے فیصلوں کے پابند نہیں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آخر اور رواس سال کے ابتدا میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے ملک بھر اور باالخصوص پنجاب میں اپنی کامیابیوں کے بارے میں طویل دورانیے کے بیسیوں اشتہارات جاری کیے تھے۔

جب یہ اشتہارات نشر ہور رہے تھے تو اُس وقت کی حزب مخالف کی جماعتوں باالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ، جو آج کی حکمران جماعتیں ہیں انہوں نے اعتراضات کیے تھے کہ مسلم لیگ (ق) اپنی جماعت اور قیادت کی مبینہ خود سراہی پر مبنی انتخابی مہم سرکاری خرچ پر چلا رہی ہے۔

پاکستان میں میڈیا کی جانب سے حکومت کے اشتہارات کا بائیکاٹ کرنے کے واقعات بہت ہی کم ہوئے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے کسی صوبائی حکومت کے اشتہارات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

اسی بارے میں
نوائے وقت کے اشتہارات بند
26 February, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد