نوائے وقت کے اشتہارات بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر اور دی نیشن کے ایڈیٹر عارف نظامی نے کہا ہے کہ حکومت نے ان کے ادارہ نوائے وقت کے سرکاری اشتہارات پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ انہیں نے کہا کہ وہ اپنا مشن جاری رکھنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں روز نامہ نوائے وقت کے زیر اہتمام ہونے والی ایک تقریب میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ پالیسی ان دعٰووں کے برعکس ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ ان کے اخبار کی طرف سے نیوکلئیر سائینسدانوں کے مسئلے، کشمیر پر اور ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی جیسے معاملات پر حکومت کی مخالفت کی وجہ سے انہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عارف نظامی نے کہا کہ ان کا اخبار ملک کے قومی مفاد اور حکومت کے مفاد میں فرق کرتا ہے۔ مسٹر نظامی نے کہا کہ وہ جلوس تو نہیں نکال سکتے لیکن قلم کے زور سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات بند کرنے کا حربہ ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر سیاستدانوں نے بھی اپنایا اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا موڈ بھی دی نیشن کے اشتہارات بند کرنے کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اصل تکلیف یہ ہے کہ ہم ملک میں جمہوری اداروں کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں، فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے وہ اپنا کام انجام دے نہ کہ ملک پر حکمرانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے حق کی بات کرتے ہیں اور پاکستان کے مفاد ات پر سودے بازی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو حکمرانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان کا ادارہ، نظریۂ پاکستان، جمہوری اداروں، جمہوریت ،کشمیر اور ایٹمی پروگرام پر مفاہمت نہیں کر سکتا۔‘ عارف نظامی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے جمعرات کو شائع ہونے والے وزیر اعظم جمالی کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ صحافت پر کسی قسم کے دباؤ کے خلاف ہیں اور کہا کہ ’اشتہارات ہر پابندی کے اقدامات سے ان کے ان دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔‘ پاکستان میں اخبارات کے مالکان اور کارکن صحافی اکثر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ حکومت سرکاری اشتہارات کو بطور اخبارات و رسائل کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے وہ اسے صحافت پر حکومتی دباؤ قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف اخبارات کے اشتہارات بند کیےجاتے رہے ہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (دستوری) کے صدر سعید آسی نے ادارہ نوائے وقت کے اشتہارات بند کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پابندی حکمرانوں کی آمرانہ سوچ کا عکاسی کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||