BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 July, 2008, 17:52 GMT 22:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا فضل الرحمن کی پارٹی میں پھوٹ

مولانا فضل الرحمن
مولانا فضل الرحمان سےجماعت کے اندر انتخابات کرانےکا مطالبہ کیا ہے
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بلوچستان کے ایک ہفتے کے دورے پر سنیچر کے روز ژوب پہنچے ہیں جہاں ان کے استقبال کے لیے آنے والے جماعت کے دونوں دھڑوں کے کارکنوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے دونوں دھڑوں کے کارکن ژوب شہر کے داخلی راستے پر اپنی جماعت کے سربراہ کے استقبال کے لیے موجود تھے اور اس دوران نظریاتی گروپ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عبدالخالق بشردوست نے مولانا فضل الرحمان کو ایک یادداشت پیش کی اور اس دوران مولانا محمد خان شیرانی گروپ کے کارکن بھی وہاں پہنچ گئے جہاں دونوں گروہوں میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی۔

نظریاتی گروپ کے قائدین نے بتایا ہے کہ اس یادداشت میں مولانا فضل الرحمان سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں جماعت کے اندر آزاد انتخابات کرائے جائیں۔

ژوب سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس دوران پتھراؤ ہوا ہے اور فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی ہے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

مولنا فضل الرحمان نے جب ژوب میں جلسہ عام سے خطاب شروع کیا تو اس دوران شدید طوفان کی وجہ سے ان کا خطاب ادھورا رہ گیا اور وہ جلسہ گاہ سے چلے گئے۔

مولانا فضل الرحمان اتوار کے روز قلعہ سیف اللہ میں جبکہ نو اور دس جولائی کو کوئٹہ میں الگ الگ جلسوں سے خطاب کریں گے۔ نو جولائی کو جماعت کی صوبائی قیادت کی جانب سے انتظامات کیےگئے ہیں جبکہ دس جولائی کو سابق اراکین قومی اسمبلی حافظ حسین احمد اور مولوی نور محمد کی جانب سے طلب کیے گئےجلسہ سے خطاب کریں گے۔

حافظ حسین احمد اور مولوی نور محمد نے حالیہ انتخابات سے کوئی ایک سال پہلے قومی اسمبلی سے جماعت کی پالیسیوں کے برعکس مستعفیٰ ہوگئے تھے۔

بلوچستان کی سطح پر جمعیت علماء اسلام میں انتخابات کے دوران اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے اور دونوں دھڑوں کے امیدواروں نے ایک دوسرے کے مدِ مقابل انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

نظریاتی گروپ کے ایک رکن قومی اسمبلی اور ایک صوبائی اسمبلی کے کامیاب ہوئے جبکہ مولانا محمد خان شیرانی کے سات اراکین صوبائی اسمبلی کامیاب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد