فوجی آپریشن پر کراچی میں خدشات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی بڑا واقعہ پیش آتا ہے، اس کے اثرات کراچی پر ضرور مرتب ہوتے ہیں، چاہے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت ہو، لال مسجد آپریشن یا باجوڑ کے مدرسے پر میزائل حملہ، جس میں اسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ قبائلی علاقوں میں جاری حالیہ آپریشن کی وجہ سے یہاں کے شہریوں اور خصوصاً پشتو آْبادی میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ کراچی کے منی پشاور سہراب گوٹھ میں ہوٹلوں اور دکانوں پر معمول کے مطابق کاروبار جاری ہے، صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ روزگار کی تلاش میں یہاں پہنچے ہیں۔ حالیہ آپریشن کی وجہ سے ان کے ذہنوں میں کئی خدشات موجود ہیں۔ مرزا علی برقی جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں وہ قبائلی علاقوں میں کشیدگی کا ذمے دار حکومت اور خاص طور پر صدر پرویز مشرف کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکہ کے کسی وزیر یا مشیر کی پاکستان آمد ہوتی ہے تو اس سے قبل ان کو خوش کرنے کے لیے قبائلی علاقوں میں لوگوں اور بچوں پر بمباری کی جاتی ہے اور بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ یہاں پر غیرملکی تھے حالانکہ کوئی بھی حکومت غیر ملکیوں کی موجودگی کو ثابت نہیں کرپائی۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد حکومت چوری چھپے سے معاوضے بھی دے دیتی ہے۔ ’جب آپ نے کہا کہ یہاں پر غیرملکیوں پر حملے کیے اور غیرملکیوں کو مارا ہے تو پھر صلح کی خاطر انوور (دنبہ) کیوں لے کر آتے ہیں اور معاوضہ کیوں دیتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک آدمی اپنی مرضی اور بغیر کسی قانون اور عدالت کے کوئی اقدام کرتا ہے تو پھر یہ غیر شرعی ہے۔ وہ حکومتی کارروائی کے حامی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں مقامی لوگ نہیں غیر ملکی ملوث ہیں جنہیں خود حکومت نے افغانستان جہاد کے وقت قبائلیوں کے پاس مہمان بناکر بھیجا تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے جو مہمان بنائے آج وہ دھماکے کر رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو دہشت گردی کے لیے اکسا رہے ہیں، پندرہ سولہ سال کے لڑکوں کو کیا پتہ کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔ انہیں ورغلایا جاتا ہے کہ آگے جنت ہے۔ یوسف آغا کا کہنا تھا کہ حکومت ان کو گرفتار کرے اور یہاں سے باہر نکالے، یہ غیر ملکی دہشت گرد کہاں ہیں یہ حکومت اور خفیہ اداروں کو پتہ ہے۔ ذکراللہ کی سہراب گوٹھ کے علاقے میں کتابوں کی دکان ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان آپریشنوں سے دونوں طرف نقصان پاکستان کا ہی ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرف مریں یا دوسری طرف کوئی مرجائے ہیں تو دونوں پاکستانی ۔ جب یہ لڑ لڑ کر ختم ہوجائیں گے تو پھر غیر آ کر یہاں قابض ہوجائے گا پھر امریکہ یا انڈیا بھی آسکتا ہے۔
سہراب گوٹھ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے آنے اور جانے والی کوچوں کا بھی اڈہ ہے، یہاں پشتو گیتوں کی کیسٹوں اور سی ڈیز کی فروخت بغیر کسی خوف و خطرے کے جاری ہے جب کہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام بعض علاقوں میں انہیں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ ایک دکاندار محمد نذیر کا کہنا ہے کہ روزانہ اسی کے قریب کیسٹیں فروخت ہوجاتی ہیں، تاہم وہ اس کو غیر شرعی کاروبار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کاروبار قبائلی علاقوں میں ممکن نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بم دھماکے اور سی ڈی کی دکانوں پر حملے غلط ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے تاہم وہ حکومتی اقدام کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی شرکت کے بعد کراچی میں فرانسیسی انجینئروں، امریکی سفارتخانے، کور کمانڈر پر حملے اور صدر پرویز مشرف پر حلمے کی کوشش کی گئیں۔ تخریب کاری کے ان واقعات کی وجوہات پاکستان کی افغان پالیسی اور مجاہدین کے خلاف کارروائی کے رد عمل کو قرار دیا گیا۔ حالیہ حکومتی کارروائی کے وقت بھی کراچی میں کسی رد عمل کے خدشات موجود ہیں مگر مشیر داخلہ رحمان ملک اس کو مفروضہ قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی رد عمل ہوا تو اس کے لیے حکومت مکمل طور پر تیار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||