BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں حاکم کون؟

طالبان
قبائلی علاقوں میں سرکاری اہلکار امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے باوجود اپنے احکامات کی تعمیل کرانے سے قاصر ہیں

افغانستان کی کرزئی حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کابل اور اردگرد کے بیس کلومیٹر کے دائرے میں موثر ہے۔ اس دائرے سے باہر یا تو طالبان ہیں یا پھر روایتی جنگجو سردار۔ یہ طالبان و سردار اور انکی ملیشیائیں نہ صرف دیہی افغانستان بلکہ اسکی معیشت بھی کنٹرول کرتی ہیں۔

جبکہ افغانستان کی شمالی سرحد پر واقع وسطی ایشیائی ریاستوں اور مغربی سرحد سے متصل ایران میں سرکاری کنٹرول افغانستان کے برعکس خاصا مستحکم اور مکمل ہے۔

افغانستان کے جنوبی ہمسائے پاکستان میں اگر حکومتی رٹ کے نقشے پر نگاہ ڈالی جائے اور اسکا موازنہ افغانستان کے دیگر ہمسائیوں کے ساتھ کیا جائے تو حالات بہت اچھے نظر نہیں آتے۔ پچھلے دس برس کے دوران بالعموم اور نائن الیون کے بعد بالخصوص پاکستان میں مرکزی حکومت کی سخت گیری کے باوجود اسکی رٹ خطرناک حد تک کم ہوئی ہے۔

چاروں صوبوں کا اگر ایک ایک کرکے جائزہ لیا جائے تو بات اور واضح ہوجاتی ہے۔ مثلاً شمالی سندھ میں روزمرہ زندگی مقامی قبائل اور انکے مسلح گروہوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ سکھر، گھوٹکی، جیکب آباد، شکار پور کے علاقوں میں بالخصوص پولیس نام کا ادارہ یا تو مقامی سرداروں کے رحم و کرم پر ہے یا پھر تھانوں کے شو کیسوں میں بند ہے۔ جبکہ عدالتی نظام کو جرگہ سسٹم نے موثر طور سے نگل لیا ہے اور پاکستان پینل کوڈ کو لوکل ٹرائبل کوڈ نے بہت موثر انداز میں اپنے اندر ضم کرلیا ہے۔ قبائل لڑتے ہیں اور پھرخود ہی صلح بھی کرلیتے ہیں۔ ان قبائل کے سردار صوبائی حکومت اور اسمبلی کا بھی حصہ ہیں اور ماورائے حکومت ڈھانچے اور لوگوں کی زندگیوں کے بھی مالک ہیں۔ اس علاقے میں حکومتی رٹ یا تو گیس فیلڈز سمیت اہم تنصیبات تک محدود ہے یا پھر پنوں عاقل کی فوجی چھاؤنی تک۔

بلوچستان
بلوچستان میں سرکاری رٹ ایک عرصے سے کئی کھاتے داروں میں بٹ چکی ہے
سندھ سے متصل جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا صوبے بلوچستان میں سرکاری رٹ ایک عرصے سے کئی کھاتے داروں میں بٹ چکی ہے۔ ڈیرہ بگتی ، کوہلو یا مکران کا ساحلی علاقہ ہو یا پھر خضدار اور قلات سمیت وسطی بلوچستان یا تافتان سے مند تک اور تافتان سے ژوب تک کا سرحدی علاقہ۔ ان سب جگہوں پر آپ کو کوسٹ گارڈز، ایف سی، انٹیلی جینس ایجنسیوں ، مسلح قوم پرستوں ، سمگلرز یا مقامی سرداروں کی رٹ سے تو سابقہ پڑے گا لیکن حکومتی رٹ اگر نظر آئے گی بھی تو دارالحکومت کوئٹہ یا اسکے اردگرد کے کچھ علاقوں میں۔ لیکن اس کے بارے میں بھی یہ واضح نہیں کہ اس میں صوبائی حکومت اور کوئٹہ کی گیارہویں آرمی کور کی رٹ کا تناسب کیا ہے اور کس کی کس پر بالادستی ہے۔ مقامی مبصرین کے بقول بلوچستان کے بعض علاقوں میں وزیرِ اعلی بھی پیشگی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتا۔

جہاں تک صوبہ سرحد کا تعلق ہے تو نائن الیون کے بعد سے بالخصوص سرکاری رٹ رفتہ رفتہ پشاور، وسطی اضلاع مردان ، چارسدہ ، صوابی ، ہزارہ ڈویژن تک رہ گئی ہے۔ دیر، چترال اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں یہ رٹ جزوی طور پر برقرار ہے۔ جبکہ تقریباً تمام قبائلی ایجنسیوں بشمول ضلع سوات، بنوں، ٹانک ، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ و پشاور کے درمیان واقع درہ آدم خیل میں حکومتی رٹ یا تو عملاً نہیں ہے یا جزوی ہے یا پھر اسے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ کہیں متوازی نظامِ حکومت و عدل کام کررہا ہے تو کہیں مکمل لاقانونیت ہے تو کہیں ایک گروہ دوسرے سے برسرِ پیکار ہے تو کہیں سرکاری اہلکار امن و امان کی صورتحال بظاہر بہتر ہونے کے باوجود اپنے احکامات کی تعمیل کرانے سے قاصر ہیں ۔

اور جہاں جہاں حکومتی رٹ برقرار ہونے کا تاثر ہے بھی تو یہ واضح نہیں ہے کہ صوبائی انتظامیہ، قبائلی پولٹیکل انتظامیہ، فوجی، پیرا ملٹری فورسز میں سے کس کی رٹ کس جگہ اور کس صورتحال میں بالادست ہے۔

جہاں تک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات کا معاملہ ہے تو وہاں پاکستان کی وفاقی حکومت یا مقامی حکومت کی رٹ کے قیام کے لئے نہ صرف ایک علیحدہ وفاقی وزارت موجود ہے بلکہ ان علاقوں میں منتخب ادارے بھی کام کررہے ہیں۔ لیکن کوئی بھی فیصلہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کی مثبت رپورٹ کے بغیر نہ صرف بہت مشکل ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کے ہر ہر مرحلے میں ایجنسی اہلکاروں کی رضامندی اور انکی رائے کی بالادستی لازم ہے۔

لال مسجد
گزشتہ سال لال مسجد کی انتظامیہ نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی
یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ بلاخر ایجنسیاں بھی تو حکومتی رٹ کے تحت ہی آتی ہیں۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ کاغذی طور پر تو یہ ایجنسیاں وزارتِ داخلہ و دفاع کے تحت آتی ہیں لیکن عملاً یہ اپنے طور پر خودمختار فیصلہ ساز اداروں کی شکل اختیار کر گئی ہیں ۔ حتی کہ انکے اکثر اقدامات عدالتی و پارلیمانی گرفت کے نظام سے بھی باہر تصور کئے جاتے ہیں۔ لہذا ان ایجنسیوں کو برطانوی ایم آئی فائیو اور سکس یا امریکن سی آئی اے، ڈی آئی اے یا ایف بی آئی کے تقابل میں حکومتی ادارہ کہنے سے زیادہ پاکستانی حکومتی رٹ میں ایک غیر رسمی طاقتور شراکت دار کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں یقیناً حکومتی عملداری مکمل ہے۔سوائے سالِ گزشتہ کہ جب لال مسجد کی انتظامیہ نے اس رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی۔

البتہ اگر کسی ایک صوبے میں حکومتی رٹ مسلسل ہے اور اسے اب تک کسی سنگین چیلنج کا سامنا نہیں رہا تو وہ ہے صوبہ پنجاب۔ لیکن اس صوبے اور کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں کو ایک اور چیلنج کا سامنا ہے، یعنی شہری مافیا۔ جس میں قبضہ گروپ ، پولٹیکل مافیا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں بظاہر آپ کو حکومتی رٹ مکمل نظر آئے گی ۔ لیکن کراچی کی کچی آبادیاں جن میں شہر کے تقریباً آدھے لوگ رھائش پذیر ہیں وہ کسی حکومت کو نہیں جانتے بلکہ ان گروہوں کو جانتے ہیں جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے یہاں بستیاں آباد کی ہیں اور پانی، بجلی، سڑک، امن و امان اور باہمی جھگڑوں کے فیصلوں تک ان نجی و سیاسی گروہوں کی حاکمیت نے بڑے موثر انداز میں خود کو سرکاری حاکمیت کے متبادل کے طور پر منوایا ہے۔ کم و بیش یہی صورتِ حال لاہور سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں کی بھی ہے۔

اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومتی رٹ کی بنیادی تشریح کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان میں موثر سرکاری عمل داری ملک کے چالیس فیصد سے بھی کم حصے پر نظر آتی ہے۔

خود اسلام آباد کے وفاقی ایوانوں میں کس کا سکہ چلتا ہے۔وزیرِ اعظم اور انکی کابینہ کا؟ کابینہ سے باہر بیٹھے سیاسی رہنماؤں کا؟ یا راولپنڈی کے صدارتی کیمپ آفس یا فوجی قیادت کا ؟ یا پھر امریکی سفارتخانے کا؟ یا پھر تھوڑا تھوڑا سب کا؟۔معاشی فیصلے حکومت کرتی ہے یا مختلف مفادات کی محافظ لابیاں یا مافیائیں ؟؟؟اس سوال کا کوئی واضح جواب اسوقت ممکن نہیں ہے۔

مرکزی حکومتوں نے صوبائی خودمختاری ، اختیارات کی غیر مرکزیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے کام کو آئین کے اندر رہتے ہوئے کبھی مکمل نہیں کیا۔اس خلا کی موجودگی میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری گروہوں نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بے شمار چھوٹے چھوٹے خودمختار و نیم خودمختار مراکز کی شکل اختیار کرلی ہے۔اور ریاست میں بوجوہ اتنی طاقت نظر نہیں آتی کہ وہ ان چھوٹے چھوٹے غیر رسمی مراکز کو کسی ایک لڑی میں پرو سکے۔یہ وہ ماحول ہے جو کسی بھی ملک کو افغان وائرس میں مبتلا کرنے کے لئے سازگار ہے۔

فائل فوٹوسقوطِ پشاور؟
پشاور طالبان کے گھیرے میں
ذوالفقار مرزا آپریشن کی تیاری
سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں
گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟
بیت اللہ نے آئی ایس آئی مخالف بات پہلے نہیں کی
منگل باغمنگل باغ انٹرویو
’جرائم کے خلاف کارروائی جاری رہے گی‘
قبائلی اور بندوبستی علاقےخیبر معرکہ کیوں؟
فوجی آپریشن، اسباب، نتائج اور سوالات؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد