عسکریت پسندوں کو نکالنے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں درجنوں خواتین نے مظاہرہ کیا ہے جن کا مطالبہ تھا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار عسکریت پسندوں کی وادی نیلم میں سرگرمیاں بند کی جائیں اور ان کو علاقے سے باہر نکالا جائے۔ لائن آف کنڑول پر نومبر سن دو ہزار تین میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان فائر بندی کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا مظاہرہ تھا۔ وادی نیلم کے قصبے اٹھمقام میں احتجاجی مظاہرے میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں وادی نیلم میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے ان کو خدشہ ہے کہ لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فائر بندی خطرے میں پڑسکتی ہے چنانچہ امن برقرار رکھنے کی خاطر وادی نیلم میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور ان کو علاقے سے باہر نکالا جائے۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ لائن آف کنڑول پر نومبر سن دو ہزار تین میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فائر بندی سے قبل برسوں سے جاری رہنے والی گولہ باری کے باعث وادی نیلم میں سینکڑوں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا، روز گار تباہ ہوگیا اور بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنڑول پر فائر بندی کے باعث ’ہم نے سکھ کا سانس لیا اور وادی نیلم کے تباہ حال لوگ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہو۔‘ مظاہرے میں شریک ایک خاتون سرور جان نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ انہوں نے کہا کہ ’حکمرانوں کے اپنے بچے امریکہ اور لندن میں پڑھتے ہیں جبکہ ہمارے بچے بنکروں میں جوان ہوئے اور وہ ان پڑھ رہ گئے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’سن سنتالیس سے کشمیر کے مسئلہ پر لڑائی ہورہی ہے اور ساٹھ برسوں میں پاکستان بھارت سے ایک انچ بھی حاصل نہیں کرسکا البتہ ہماری زندگیاں اجیرن بنادی گئیں۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم سوائے امن کے اور کچھ نہیں چاہتے ہیں تاکہ ہم سکون سے اپنی زندگی گذار سکیں۔‘ سرور جان نے مزید کہا کہ وہ بس کے ذریعے اٹھمقام سے چار کلومیڑ کے فاصلے پر واقع سالخلہ تک گئے جہاں انہوں نے فوجی حکام پر واضع کیا کہ عسکریت پسندوں کو روکا جائے اور دو دن کے اندر وادی نیلم کو عسکریت پسندوں سے خالی کروایا جائے ورنہ ہم دوبارہ احتجاج کریں گے۔ اسی دوران وادی نیلم کی مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں پر مشتمل امن کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ کمیٹی کے ترجمان امیر الدین مغل کا کہنا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے آگاہ کریں گے اور زور دیں گے کہ ان کے علاقے سے عسکریت پسندوں کو باہر کیا جائے۔ ماضی میں بھارت اکثر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان کی فوج اس کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کو داخل کرنے کے لئے گولہ بھاری کرتی رہی لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا رہا۔ پاکستان کی حکومتوں کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف سیاسی، سفارتی اور اخلاتی حمایت کرتا ہے۔ سن دو ہزار تین میں فائر بندی کے بعد سے بھارت تسلیم کرتا ہے کہ سرحد پار سے عسکریت پسندوں کی درانذازی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیریوں کے بغیر مذاکرات نامکمل21 June, 2008 | پاکستان زرداری کی عمر فاروق سے ملاقات23 June, 2008 | پاکستان . . . .’ یہ تیرے پراسرار بندے‘04 June, 2008 | پاکستان کشمیر: حکومت پر اقرباءپروری کا الزام09 June, 2008 | پاکستان ’عسکریت کا کنٹرول ہمارے پاس نہیں‘29 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||