BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 June, 2008, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانی شہری ایران کے حوالے

احتجاج
حکومت پاکستان نےپچیس مئی کو حیدر رئیسانی کو ایران لے جانے کی تیاریاں کی تھیں جس پر شدید احتجاج کیا گیا تھا
سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں پاکستانی شہری غلام حیدر رئیسانی کو ایران کے حوالے کرنے کے بارے میں کہا ہے کہ غلام حیدر رئیسانی ایرانی باشندہ ہے اور وہ ایرانی پولیس کو فوجیوں کے اغواء کے مقدمے میں مطلوب ہے۔

انہوں نےاس حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک تحریری بیان جمع کروایا ہے ۔

پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ اس شخص کو ایران کے حوالے کرنے کا طریقہ کار غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو دوسرے ملک کے حوالے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں اور اُن کے ذریعے کسی بھی شخص کو دوسرے ملکوں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عدالت سے استدعا کی کہ اس واقعہ کی چھان بین کے لیے مناسب وقت دیا جائے جس پر عدالت نے اس کی سماعت چودہ جولائی تک ملتوی کردی اور چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ وہ اس حوالے سے مکمل طور پر چھان بین کرکے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ غلام حیدر رئیسانی کے وکیل ذوالفقار علی ملوکا نے عدالت میں پیش ہو کر الزام لگایا ہے کہ پاکستانی حکومت نے اپنی طرف سے ہی فیصلہ کرتے ہوئے ان کے موکل غلام حیدر رئیسانی جو پاکستانی شہری ہیں، کو ایران کے حوالے کر دیا ہے۔

غلام حیدر رئیسانی اغواء کے ایک مقدمے میں کوئٹہ جیل میں قید تھے اور ان کو ایران کے حوالے نہ کرنے کے بارے میں ان کے وکیل نے چودہ جون کو سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ حیدر رئیسانی کا اصل نام عبدالحمید ریکی ہے جو ایرانی باشندہ ہے اور جند اللہ کے مختلف مقدمات میں ایرانی حکومت کو مطلوب ہے۔

پاکستانی فورسز نے غلام حیدر رئیسانی کو گزشتہ سال بیس اگست کو ایرانی صوبہ سیستان اور بلوچستان سے اکیس ایرانیوں کے اغواء کے الزام میں تربت کے علاقے مند سے سولہ ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔

حیدر رئیسانی کے ساتھ گرفتار ہونے والے سولہ افراد میں سے سات کو کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رہا کر دیا تھا جبکہ حیدر رئیسانی سمیت دیگر نو افراد ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں قید تھے۔

حکومت نے گزشتہ مہینے حیدر رئیسانی کو ایران لے جانے کی تیاریاں کی تھیں جس پر مختلف بلوچ تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے رد کردیا تھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انہیں ایران منتقل نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

غلام حیدر کے وکیل صادق رئیسانی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے غلط بیانی کر کے غلام حیدر رئیسانی کو ایرانی شہری ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں مگر درحقیقت وہ بلوچستان کے ایرانی سرحد کے قریبی علاقے ماشکیل کے رہائشی ہیں۔

ان کے پاس تمام دستاویزات اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کا بھی سرٹیفکیٹ موجود ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ یہاں کے رہائشی ہیں۔

اسی بارے میں
پی پی پی کی بلوچوں سےمعافی
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد