پنجاب: عدلیہ کی تنخواہوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ماتحت عدلیہ کی بنیادی تنخواہوں تین گنا الاؤنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ صوبائی تنخواہ دار طبقے اورسرکاری ملازمین کے لیےصرف اتنے اضافے کا اعلان کیا گیا جتنا وفاقی بجٹ میں کیا گیا تھا۔ پیر کو پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ اشرف کائرہ نے بجٹ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں محتاط اعداد و شمار کے مطابق ہر دوگھنٹے میں غربت کے ہاتھوں تقریباً دو افراد خود کشی کرلیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اس بجٹ میں غربت کی کمی کے لیے سترہ ارب روپے رکھے گئے ہیں یہ رقم غریبوں کی روزمرہ خوراک، علاج معالجہ اور دیگر ضروریات پر خرچ کی جائیں گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ تقریباً تین سو نوے ارب روپے کی مجموعی آمدنی میں سے ایک سو دس ارب روپے تعلیم اور پینتیس ارب روپے صحت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے میں یتیم بچوں کے لیے بہتر سکول قائم کیے جائیں گے جبکہ عام طلبہ کے لیے پنجاب کے سات شہروں میں مفت ائرکنڈیشنڈ بس سروس شروع کی جائے گی۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ صوبے بھر میں مزید ایک ہزار ائر کنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی۔ صوبائی بجٹ میں گرین ٹریکٹر سکیم کے دوبارہ اجراء کا اعلان کیا گیا جس کے تحت دس ہزار ٹریکٹروں کی خریداری پر فی ٹریکٹر ایک لاکھ روپے کی رعایت دی جائےگی۔اس کے علاوہ ساٹھ ہزار ایکڑ اراضی چھوٹے کاشتکاروں میں ساڑھے بارہ ایکڑ فی کس کے لحاظ سے تقسیم کردی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت محکمہ پولیس کے لیے ایک ایسی سکیم شروع کر رہی ہے جس کے تحت جو پولیس افسر امن وعامہ فراہم کرے گا اسی کی ترقی ہوگی جبکہ کرپٹ افسروں کو نکالنے کے لیے قانون بنایا جائے گا۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی سطح پر ڈرگ پرائسنگ کی پالیسی کو غریبوں کے مفاد میں ترتیب دینے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جو ادویات عالمی معاہدہ ڈبلیو ٹی او کے مطابق مطلوبہ عرصہ گزار چکی ہیں انہیں پیٹنٹ کے زمرے سے نکال کرجینرک کے زمرے میں ڈال دیا جائے۔ پنجاب حکومت نے سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں ایک فی صد اضافہ کر کے اسے سولہ فی صد کر دیا ہے اور وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ٹیکس براہ راست صوبے کو وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔ درآمد شدہ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس لگایاگیا ہے جبکہ عدالت یا ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کو سٹامپ پیپر کے دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے اور دو فی صد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ مسلم لیگ قاف نے بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ مسلم لیگ قاف کے پارلیمانی لیڈر چودھری ظہیر الدین نے کہا کہ ان کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفیکشن جاری ہونے تک بائیکاٹ جاری رہے گا۔مسلم لیگ قاف کے اراکین نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا۔ | اسی بارے میں شہباز کی اتوار کو حلف برداری06 June, 2008 | پاکستان میڈیکل کالج سے احمدی خارج05 June, 2008 | پاکستان ’پارلیمان کےگھیراؤ کے حق میں نہیں‘11 June, 2008 | پاکستان انتقام کی سیاست نہیں ہوگی: شہباز08 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||