BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف پر اسمبلی میں بحث و تکرار

قومی اسمبلی میں گو مشرف گو کے نعرے گونجتے رہے

قومی اسمبلی میں منگل کے روز صدر پرویز مشرف کے خلاف اور انکے حق میں تقاریر کرنے پر حزب اقتدار اور اختلاف کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں اور الزامات کا تبادلہ ہوا اور ایوان ’گو مشرف گو’ کے نعروں سے گونجتا رہا۔

اس دوران راولپنڈی کے سابق کور کمانڈر، جنرل ریٹائرڈ جمشید گلزار کیانی کے شائع شدہ انٹرویو کا حوالہ دے کر پرویز مشرف کےخلاف کارگل اور جامع حفصہ آپریشن کرنے پر مقدمہ چلانے کے عزائم کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے بعض ارکان نے مسلم لیگ ق کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کی تقریر کے دوران نعرے بازی کی اور ڈیسک بجائے۔ حزب اختلاف کی رکن کو تقریر کا موقع نہ ملنے پر حزب اختلاف کے تمام ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کی کوشش کی تاہم پیپلز پارٹی کے چیف وہپ خورشید شاہ کی مداخلت پر نعرے بازی بند ہوئی اور حزب اختلاف نے واک آؤٹ کا ارادہ ترک کر دیا۔

ایوان میں تلخی اس وقت پیدا ہوئی جب قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں امریکی حملوں کے خلاف تحریک التواء پر بحث کے دوران حزب اقتدار کے بعض ارکان نے صدر پرویز مشرف کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔

تکرار کا آغاز مسلم لیگی رکن چودھری برجیس طاہر کی تقریر سے ہوا جس میں انہوں نے صدر مشرف کو امریکی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے ان سے چھٹکارا پانے کی بات کی۔

تاج جمالی نے کہا کہ پرویز مشرف کو گرفتار کیا جائے۔ سپیکر فہمیدہ مرزا نے صدر مشرف کے بارے میں ان کے بعض ریمارکس کو نازیبا قرار دیتے ہوئے ریکارڈ سے حذف کر دیا۔

نکتہ اعتراض پر صدر مشرف کے خلاف کی جانے والی تقاریر کا جواب دیتے ہوئے ق لیگ کے رکن امیر مقام نے کہا کہ حزب اختلاف مشرف فوبیا کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کو گولی مارنے کے ایک رکن کے عزائم افسوسناک ہیں اور سپیکر نے ان الفاظ کو حذف کر کے پارلیمانی روایات کا پاس رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک کے سولہ کروڑ عوام کے نمائندوں نے منتخب کیا ہے اور وہ ملک کے آئینی صدر ہیں۔

امیر مقام کے اس وضاحتی بیان کے جواب میں مسلم لیگ کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے جذباتی تقریر کی جس میں انہوں نے راولپنڈی کے سابق کور کمانڈر، جنرل ریٹائرڈ جمشید گلزار کیانی کے شائع شدہ انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پرویز مشرف پر کارگل آپریشن میں سیاسی قیادت کو دھوکا دینے اور لال مسجد آپریشن میں فاسفورس بم استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس انٹرویو کے بعد اب جنرل مشرف کو عدالت کے کٹہرے میں لانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرویز مشرف کے جرائم معاف نہیں کرے گی اور انہیں سزا ضرور ملے گی۔

اسی بارے میں
وفاقی بجٹ سات جون کو
26 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد