BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 May, 2008, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ:ہلاک شدگان کی تدفین، ہڑتال

کوئٹہ میں ہڑتال(فائل فوٹو)
حالیہ حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے قبول کی ہے
کوئٹہ کے جناح ٹاؤن میں ہلاک ہونے والے پانچ نوجوانوں کو ہزارہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے اور اس واقعے کے خلاف آج شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

نمازِ جنازہ مری آباد میں ہزارہ قبرستان میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس واقعے پر لوگوں میں غم اور غُصّہ پایا جاتا ہے۔

سنیچر کو کوئٹہ شہر میں تمام کاروباری مراکز، مارکیٹ اور دکانیں ہیں اور ٹریفک بھی معمول سے کم نظر آیا ہے۔ ہڑتال کی اپیل مرکزی انجمن تاجران نے دی تھی۔ صوبائی حکومت نے بلوچستان یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

کوئٹہ میں وارداتیں
 تین روز پہلے کوئٹہ کے جائنٹ روڈ اور ریلوے کالونی میں ایک ہی رات میں فائرنگ کے تین واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے ایوب سٹیڈیم میں شام کے وقت کرکٹ میچ کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے
یاد رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد نے جناح ٹاؤن میں ایف آئی اے کے دفتر کے سامنے کرکٹ میچ کھیل کر واپس آنے والے نوجوانوں پر فائرنگ کر دی تھی جس میں کم سے کم پانچ نوجوان ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والے نوجوانوں کا تعلق شیعہ مسلک کے ہزارہ قبیلے سے تھا لیکن پولیس کے مطابق یہ فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ نہیں تھا۔

اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن نوجوانوں پر حملہ کا گیا ہے یہ خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرتے تھے۔

پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی ہیں لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے تین روز پہلے کوئٹہ کے جائنٹ روڈ اور ریلوے کالونی میں ایک ہی رات میں فائرنگ کے تین واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے ایوب سٹیڈیم میں شام کے وقت کرکٹ میچ کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

ان تمام حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے قبول کی تھیں۔

جائنٹ روڈ اور ریلوے کالونی کے مکینوں نے گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کیے تھے جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں نہ بی ایل اے اور ناں بی ایل ایف کے لوگ کر رہے ہیں بلکہ انہیں سو فیصد نہیں تو پچاس فیصد یقین ہے کہ یہ کارروائیاں کون لوگ کر رہے ہیں اور وہ ان کے ذہن میں ہیں جن پر جلد ہاتھ ڈالا جائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد