ایرانی قونصل خانے کے سامنے احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک شخص کو ایران کے حوالے کیے جانے کے خلاف کوئٹہ میں ایرانی کونسل خانے کے سامنے سوموار کو مظاہرہ کیا گیا۔ کوئٹہ میں بلوچ خواتین، طلباء اور وکیلوں نے ایرانی قونصل خانے کے سامنے اور تربت میں پریس کلب کے سامنےاحتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ یہ مظاہرے ایک ایسے شخص کے بارے میں ہیں جسے ایران نے حکومت پاکستان سے طلب کیا تھا۔ بلوچ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ غلام حیدر رئیسانی اس وقت کوئٹہ جیل میں قید ہے اور حکومت پاکستان اسے مبینہ طور پر ایران کے حوالے کرنا چاہتی ہے جس کے خلاف وہ احتجاج کر رہے ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ طلبا اور طالبات کے علاوہ بلوچ خواتین پینل اور بلوچ بار ایسوسی ایشن سے وابستہ وکلاء نے مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد ریلی نکالی گئی جو عدالت روڈ، جناح روڈ اور حالی روڈ سے ہوتی ہوئی ایرانی قونصل خانے کے سامنے پہنچی جہاں مظاہرین نے حکومت پاکستان اور ایرانی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن طالبات ونگ کی رہنما فریدہ بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اور ایران ہر حالت میں بلوچوں کو دہشت گرد ہی ثابت کرنا چاہتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی کاروبار کریں یا کہیں بھی نوکری کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غلام حیدر رئیسانی کو مبینہ طور پر اب غیر قانونی طور پر ایران کے حوالے کیا جا رہا ہے جبکہ غلام حیدر کو یہاں پاکستانی عدالتوں سے سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے رہنما صادق رئیسانی ایڈووکیٹ کے مطابق انہوں نے ایرانی کونسل خانے میں یادداشت پیش کرنا چاہی لیکن قونصل خانے سے یادداشت وصول کرنے کوئی بھی نہیں آیا۔ صادق رئیسانی ایڈووکیٹ کے مطابق حکومت ایران کو عبدالحمید ریگی شفاء نام کا ایک شخص کچھ ایرانیوں کو اغوا کرنے کے ایک مقدمے میں مطلوب ہے۔ ایرانی حکومت نے پاکستان حکومت سے دونوں ممالک کے مابین معاہدے کے تحت عبدالحمید ریگی کو طلب کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پاکستان غلام حیدر رئیسانی کو ایرانی حکومت کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گرفتار شخص کے غلام حیدر کے نام سے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفیکٹ، نکاح نامہ اور فارم ب موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے اور اس کی شنوائی کی تاریخ کل یعنی منگل مقرر ہے۔ صادق رئیسانی نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے وزارت داخلہ کی جانب سے سات مئی کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عبدالحمید ریگی کو کوئٹہ میں ایرانی حکومت کے نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس خط کی ایک کاپی غلام حیدر کی بھی فراہم کی گئی ہے۔ بلوچ رہنماؤں نے کہا ہے کہ غلام حیدر کی والدہ سخت علیل ہیں اور اس وقت ہسپتال میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلام حیدر کی والدہ نے بھی پریس کانفرسوں میں اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو ایرانی حکومت کے حوالے نہ کیا جائے جبکہ گزشتہ دنوں اس بارے میں مقامی اخبارات میں اشتہارات بھی شائع ہوئے ہیں۔ کوئٹہ میں ایرانی قونصل خانے سے بی بی سی نے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن ان کا مؤقف حاصل نہ ہو سکا۔ | اسی بارے میں سرحد پر بلوچ تاجروں کا احتجاج05 May, 2008 | پاکستان پاک ایران سرحد کھلوانے کی کوشش05 February, 2008 | پاکستان ایرانی مغویوں کی وطن واپسی22 August, 2007 | پاکستان ایرانیوں کا اغواء، تحقیقات جاری21 August, 2007 | پاکستان ’بلوچوں کوتقسیم کیاجا رہا ہے‘27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||