’جمہوری پاکستان امریکہ کے حق میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ امریکی شہری چاہتے ہیں کہ ایسی پالیسیوں پر عمل کیا جائے جن سے پاکستان مستحکم ہو اور جمہوریت فروغ پائے تاکہ انتہا پسندی کے خطرے سے نمٹا جاسکے۔ امریکی سفیر نے کراچی میں جمعرات کو امریکی قونصل خانے کی نئی عمارت کی تعمیر کی افتتاحی تقریب میں یہ بات کہی۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی امداد حاصل کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے اور امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ مستحکم اور جمہوری پاکستان امریکہ کو مزید محفوظ بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال کچھ عرصے سے خراب ہے اور اس سے کراچی اور لاہور بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ترقی اور بیروزگاری کے خاتمہ سے انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی جبکہ سرحد پار نیٹو فوج پر حملوں میں بھی کمی آئیگی۔ انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ امریکی حکومت پاک فوج سے ہی تعاون کرنا چاہتی ہے۔ مسٹر پیٹرسن کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی نومنتخب حکومت سے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتا ہے جو فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں معاون ثابت ہوگا۔ کراچی قونصل خانے سے ویزا کے اجرا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے خدشے کی وجہ سے ان خدمات کو معطل کیا گیا تھا اور جب امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی تو یہاں سے بھی امریکہ جانے کے ویزا جاری کیے جائیں گے۔ کراچی میں مولانا تمیز الدین روڈ پر تعمیر ہونے والی امریکی قونصل خانے کی نئی عمارت سن دو ہزار دس میں مکمل ہوگئی۔ امریکی سفیر کے مطابق اس کی تعمیر پر ایک سو پچہتر ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ | اسی بارے میں ’امریکہ کومذاکرات پر تشویش نہیں‘24 April, 2008 | پاکستان فوجی امداد، پابندیاں ختم10 April, 2008 | پاکستان فاٹا میں کارروائی: فیصلہ مؤخر 21 April, 2008 | پاکستان ’پاکستان کو سات ارب ڈالر کی پیشکش‘17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||