BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 May, 2008, 17:35 GMT 22:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نشتر ہال فوری طور کھولنے کا حکم

حیدر ہوتی
ہال کو ایک پروگرام میں ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے بعد بند کر دیا تھا
صوبہ سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے پشاور شہر میں تقریباً چھ سالوں سے بند موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کا واحد مرکز نشتر ہال فوری طور پر کھولنے کا حکم جاری کیا ہے۔

منگل کو پشاور میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہال میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ قواعد وضوابط کے تحت موسیقی، ثقافتی پروگراموں اور ڈراموں کی اجازت ہوگی، تاہم سٹیج پر ڈانس اور فحاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہال کا انتظام تین رکنی سُپروائزری کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے جس میں ڈائریکٹر کلچر صوبہ سرحد پروفیسر محمد خامس، فنکارہ شازمہ حلیم اور نشتر ہال کے ایڈمنسٹریٹو افیسر شامل ہونگے۔ ہال میں پروگراموں کے انعقاد کے لیے کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔

بیان کے مطابق نشترہال میں تمام پروگرام مقامی اور پشتون روایات کے مطابق پیش کیے جائیں گے جبکہ دوسرے شہروں کے خواتین اور مرد فنکاروں اور گلوکاروں کو بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم سٹیج پر فحش ڈانس، مکالموں، گانوں اور مقامی روایات کے برعکس پروگراموں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چودہ کنال اراضی پر مشتمل نشتر ہال پشاور ہائی کورٹ سے ملحق واقع ہے۔ یہ ہال انیس سو اٹھاسی میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی مالیت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ نشتر ہال پشاور میں موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کا واحد مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

چند سال قبل ہال میں موسیقی کے ایک پروگرام کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا جس کے باعث حکومت نے ہال کو بند کر دیا تھا۔ بعد میں صوبہ سرحد میں مذہبی اتحاد ایم ایم اے کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے بھی ہال کھولنے کی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ وہ تو پہلے ہی موسیقی اور ڈراموں کے مخالف تھے۔ لہذا ان کی حکومت میں ہال پر مزید پابندیاں لگائی گئیں جس کی وجہ سے نشتر ہال تقربناً چھ سال تک بند رہا۔

ایم ایم اے کی حکومت میں پشاور میں ڈبگری گارڈن میں قائم گلوکاروں کے کئی بالاخانے اور دفاتر بند کیے گئے جبکہ کئی فنکار فاقہ کشی کے باعث شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور دیگر علاقوں کا رخ کیا۔

پشاور میں سینما گھروں کی مسماری(فائل فوٹو)پشاور کےآثارقدیمہ
فلک سیر سیمنا کو قدیم عمارت قرار دے دیا گیا
اربابارباب: مجسم پریشانی
’میرے بعد میری محنت بچ جائے‘
اسی بارے میں
سی ڈیز کے کھوکھوں پر دھماکہ
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد