BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 March, 2007, 08:33 GMT 13:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں سینما کے تحفظ کے لیے حکم

پشاور میں سینما گھروں کی مسماری(فائل فوٹو)
سرحد کنزرویشن نیٹ ورک نے صوبے میں تمام قدیم اور اہم عمارتوں کو ٹھیکیدار مافیا سے بچانے کی خاطر انہیں آثار قدیمہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کے محکمۂ آثار قدیمہ نے ’تاخیر سے لیے گئے ایک فیصلے میں‘ پشاور میں فلک سیر سینما کی عمارت کو قدیم قرار دیتے ہوئے مقامی انتظامیہ اور پولیس کو اسے گرانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

محکمہ کے ڈائریکٹر محمد بہادر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے اس قدیم عمارت کے بارے میں یہ اعلان اٹھائیس فروری کو کیا تھا۔

تاہم اس وقت پشاور کے مصروف صدر روڈ پر قائم فلک سیر سینما کی عمارت کو گرائے جانے کا عمل پوری تیزی کے ساتھ جاری تھا۔

انیس سو تیس کی دہائی میں انگریزوں کے دورے اقتدار میں یہ عمارت لینز ڈون تھیٹر کے نام سے تعمیر ہوئی تھی۔

وفاقی حکومت نے یہ قدم پشاور میں آثار قدیمہ اور ثقافت کی تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی کوششوں کے بعد اٹھایا۔

سرحد کنزویشن نیٹ ورک کے جنرل سیکٹری عادل ظریف نے اسے تاخیری اقدام قرار دیا لیکن اس کی تعریف بھی کی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جن میں جرمانہ شامل ہیں اٹھائیں جائیں اور اس رقم سے اس عمارت کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

وزارت آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر محمد بہادر خان نے بھی تسلیم کیا کہ یہ اقدام تاخیر سے اٹھایا گیا ہے لیکن انہوں نے اس کی ذمہ داری کنٹونمنٹ بورڈ حکام پر ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بورڈ سے دو فروری کو اس عمارت کا ریونیو ریکارڈ طلب کیا تھا۔

وزارت کو پشاور چھاؤنی میں حکام نے یہ ریکارڈ یکم مارچ کو فراہم کیا۔ بہادر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے ریکارڈ کا انتظار کیے بغیر اٹھائیس فروری کو ہی یہ عمارت محفوظ قرار دے دی تھی۔

وزارت نے مزید کارروائی کے لیے یہ اعلان نامہ چھاؤنی بورڈ، سٹیشن کمانڈر اور پولیس کو فراہم کر دیا ہے۔ ’کم از کم اتنا ہو جائے کہ اس عمارت کا باہر کا حصہ بچ جائے۔ اس بابت مزید کارروائی کا مجھے ابھی علم نہیں ہے‘۔

پشاور صدر میں اس عمارت کے بچانے میں تو تاخیر ہوئی ہے تاہم اس سے ایک اور عمارت کے بچ جانے کی امید بھی بڑھی ہے۔ بہادر خان نے بتایا کہ ایک دو روز میں صدر میں ہی کیپٹل سینما کی عمارت کے بارے میں بھی اعلامیہ جاری کر دیا جائے گا۔

سمینا مالکان نے ذرائع ابلاغ کے فلک سیر سینما میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

سرحد کنزرویشن نیٹ ورک نے صوبے میں تمام قدیم اور اہم عمارتوں کو ٹھیکیدار مافیا سے بچانے کی خاطر انہیں آثار قدیمہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد