آفاق احمد کی ضمانت منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے مقدمے میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ آفاق احمد کے خلاف ابھی بھی دو مقدمات زیرسماعت ہیں، جن میں ایک قتل اور ایک غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا مقدمہ شامل ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج ملیر آفتاب احمد کی عدالت میں جمعہ کو آفاق احمد کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ آفاق احمد کے وکیل سہیل انجم نے مقدمے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ سال کے باوجود یہ مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا۔ بعد میں عدالت نے دو لاکھ رپے کے عِوض ان کی ضمانت منظور کر لی۔ مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے ملیر ضلع کے قیام کے خلاف ہڑتال کے موقع پر فائرنگ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کفیل احمد ہلاک اور ان کی بہن زخمی ہوگئیں تھیں۔ آفاق احمد کو سن دو ہزار تین میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سابق حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کی شمولیت کے فوری بعد لانڈھی کے علاقے میں واقع مہاجر قومی موومنٹ کا صدر دفتر منہدم کردیا گیا تھا جبکہ تنظیم کی قیادت نے روپوشی اختیار کرلی تھی مگر کچھ ماہ بعد آفاق احمد خان اور عامر خان دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ سابق حکومت کے دوران مہاجر قومی موومنٹ نے اپنی سرگرمیاں پنجاب منتقل کردی تھیں، گزشتہ دنوں حکمران اتحاد کی اہم شخصیات سے تنظیم کے رہنماؤں کی ملاقات اور سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیے جانے کی خبریں شائع بھی ہوئی تھیں۔ گزشتہ دنوں مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ گزشتہ چھ سالوں سے جاری ریاستی آپریشن بند کیا جائے، شہر میں قائم نوگو ایریاز ختم کیئے جائیں اور تنظیم کے رہنما آفاق احمد اور دیگر کارکنوں کو جھوٹے مقدمات سے رہا کیا جائے۔ مہاجر قومی موومنٹ کے شعبے خواتین کی انچارج ردا عاصم، ریحانہ حامد اور فریال حسین کا کہنا تھا کہ لانڈھی میں دو کارکنوں کے قتل پر متحدہ قومی موومنٹ اس لیے شور اور پروپیگنڈا کر رہی ہے تاکہ مہاجر قومی موومنٹ کے خلاف ریاستی آپریشن جاری رکھا جاسکے اور اس کی قیادت اور کارکنوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات اس وقت سامنے آرہے ہیں جب مہاجر قومی موومنٹ کو سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ ردا عاصم کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ان کے ڈھائی سو سے تین سو کارکنوں کو ٹارگٹ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی موجودگی میں یہ سب کون کر رہا ہے اس کا کوئی جواب نہیں دیتا، منتخب حکومت کی موجودگی میں بھی یہ تمام کارروایاں جاری ہیں۔‘ اس سے قبل گزشتہ مہینے پریس کلب کے سامنے مہاجر قومی موومنٹ کے قائد آفاق احمد اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے جمع ہونے والی مرد و خواتین پر مشتمل ایک گروہ نے حملہ کرکے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کئی سالوں کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے کی جانے والی یہ پہلی سرگرمی تھی۔ | اسی بارے میں حقیقی کے آفاق احمد گرفتار03 April, 2004 | پاکستان ’سیاسی سرگرمیوں کی آزادی دیں‘22 April, 2008 | پاکستان حکومت سازی کی مشکلات29 February, 2008 | پاکستان غیر مشروط تعاون: زرداری، الطاف22 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||