’سیاسی سرگرمیوں کی آزادی دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں سیاسی سرگرمیوں کی آزادی دی جائے تاکہ وہ سیاسی عمل کا حصہ بن سکے۔ جماعت نے نشتر پارک بم دھماکے اور بارہ مئی واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ کے شعبہ خواتین کی انچارج ردا عاصم، ریحانہ حامد اور فریال حسین نے کراچی میں منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں لانڈھی میں دو کارکنوں کے قتل پر متحدہ قومی موومنٹ اس لیے شور اور پروپگنڈہ کر رہی ہے تاکہ مہاجر قومی موومنٹ کے خلاف ریاستی آپریشن جاری رکھا جا سکے اور اپنے گھروں کو لوٹنے والی قیادت اور کارکنوں کو سازش کے ذریعے دور رکھا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب مہاجر قومی موومنٹ کو سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ ردا عاصم کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ان کے ڈھائی سے تین سو کارکنوں کو ٹارگٹ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ حکومت کی موجودگی میں یہ سب کون کر رہا ہے اس کا کوئی جواب نہیں دیتا، منتخب حکومت کی موجودگی میں بھی یہ تمام کارروائیاں جاری ہیں۔ خواتین رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ چھ سالوں سے جاری ریاستی آپریشن بند کیا جائے اور شہر میں قائم نوگو ایریا ختم کیے جائیں اور تنظیم کے رہنما آفاق احمد اور دیگر کارکنوں کو جھوٹے مقدمات سے رہا کیا جائے۔ پریس کانفرنس میں عظیم احمد طارق، ایس ایم طارق، خالد بن ولید، حکیم سعید، مفتی نظام الدین اور منور سہروردی کے قتل کی غیرجانبدرانہ تحقیقات کے بھی مطالبات کیے گئے۔ اس سے قبل گزشتہ مہینے پریس کلب کے سامنے مہاجر قومی موومنٹ کے قائد آفاق احمد اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے جمع ہونے والی خواتین پر مرد اور خواتین پر مشتمل ایک گروہ نے حملہ کر کے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کئی سالوں کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے کی جانے والی یہ پہلی سرگرمی تھی۔ مہاجر قومی موومنٹ کی خواتین رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس تشدد کا مقدمہ ایم کیو ایم کی پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اورشعیب بخاری سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف دائر کیا جائے۔ سابق حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کی شمولیت کے فوری بعد لانڈھی کے علاقے میں واقع مہاجر قومی موومنٹ کا صدر دفتر منہدم کردیا گیا تھا جبکہ تنظیم کی قیادت نے روپوشی اختیار کرلی تھی مگر کچھ ماہ بعد آفاق احمد خان اور عامر خان دونوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ سابق حکومت کے دوران مہاجر قومی موومنٹ نے اپنی سرگرمیاں پنجاب منتقل کردیں تھیں، گزشتہ دنوں حکمران اتحاد کی اہم شخصیات سے تنظیم کے رہنماؤں کی ملاقات اور سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کی خبریں شائع بھی ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں پی پی، متحدہ تصادم، ایک ہلاک14 February, 2008 | پاکستان رپورٹ من گھڑت ہے: ایم کیو ایم28 August, 2007 | پاکستان کراچی: متحدہ کے کارکن ہلاک 20 September, 2006 | پاکستان کراچی: متحدہ کا کارکن ہلاک05 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||