اغواء کا معاملہ مبہم بھی واضح بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کے اغوا کا معاملہ جتنا بھی مبہم ہو اس میں ایک بات قدرے واضع ہے کہ حکومت کو معلوم ہے کہ اغوا کار کون ہیں ورنہ وزارت خارجہ اتنے پراعتماد طریقے سے نہ کہتی کہ وہ زندہ اور خیریت سے ہیں۔ عربی ٹی وی کی جانب سے سفیر کے ویڈیو پیغام کے سامنے آنے کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق کا حسب روایت مختصر اور مطمئن ردعمل اس بات کا واضع اشارہ تھا کہ اگر حکومت کو انہیں رکھے جانے کے مقام کا علم نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور خبر ہے کہ وہ کن لوگوں کی تحویل میں ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں علم ہے کہ وہ زندہ اور محفوظ ہیں اور یہ ٹیپ بھی یہی ثابت کرتی ہے‘۔ یاد رہے کہ یہ ویڈیو مارچ کے اوائل میں بنائی گئی لہذا کافی پرانی ہے۔ لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان ویڈیو کی تیاری کے ایک ماہ بعد بھی بڑے اعتماد کے ساتھ کہہ رہے ہیں وہ محفوظ ہیں۔ بعض مبصرین کے خیال میں اس ویڈیو ٹیپ کو سامنے لانے کا مقصد بھی حکومت اور اغوا کاروں کے درمیان بظاہر مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ اس کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر جلد فیصلہ کرے ورنہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ اگر بات ایسی ہے تو یقیناً تشویشناک ہے۔ گیارہ فروری کو ترجمان وزارت خارجہ نے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ اس میں کسی دوسرے ملک کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ افغان طالبان اس میں ملوث نہیں اور نہ ہی انہیں افغانستان میں رکھا جا رہا ہے ورنہ حکومت افغانستان یا امریکیوں سے مدد طلب ضرور کرتی۔ افغان طالبان بھی جواس قسم کی وارداتوں کو چھپاتے نہیں اور اس کا برملا دعوی کرتے رہے ہیں، وہ اس اغوا سے لاتعلقی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ افغان طالبان نے اب تک کسی پاکستانی اہلکار کو کچھ نہیں کہا۔ اگر اس مرتبہ انہوں نے ایسا کیا ہے تو کیا ان کی پاکستان کی جانب پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور یہ بھی کہ اس پالیسی بلکہ دعوے کرنے اور ذمہ داری قبول کرنے کی پالیسی بھی بدل گئی ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ چونکہ پاکستانی طالبان اس اغوا سے انکار کر رہے ہیں تو پھر یہ کام کسی مقامی جرائم پیشہ گروہ کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی واضع طور پر نہیں کہہ پا رہا کہ وہ افغان یا پاکستانی طالبان کی تحویل میں ہیں۔ یہ اغوا پاکستانی علاقے میں ہوا لہذا اس میں اُس وقت افغان طالبان کا ہاتھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ قیاس آرائیاں بھی ہیں کسی جرائم پیشہ گروہ نے انہیں اغوا کرکے آگے ’فروخت‘ کر دیا ہو۔ اغوا کاروں کی جانب سے کئی اہم شدت پسند رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے میں بھی کوئی زیادہ وزن نظر نہیں آتا۔ یہ تو ایسا ایک مطالبہ ہے جسے پورا کرنا کسی بھی حکومت کے لیے اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوگا۔ کیسے اتنے بڑے بڑے مطلوب افراد نام آزاد کیے جاسکتے ہیں۔ اگر یہ فہرست درست ہے تو حکومت ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہے۔ اس فہرست پر نظر ڈالیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آدھی فہرست پاکستانی اور آدھی افغان طالبان کی ہوسکتی ہے۔ جن سات افراد کی رہائی مانگی گئی ہے وہ پاکستانی طالبان کے قریب جبکہ باقی ماندہ افغان طالبان کے اہم رہنما ہیں۔ تو اگر وہ اس اغواء سے انکار کر رہے ہیں تو پھر کیا یہ ان کے کسی حامی گروپ کی کارستانی ہے یا پھر انہیں بدنام کرنے کی کوشش؟ خیبر ایجنسی میں اغوا شدہ سفیر کے بارے میں جو ایک تیھوری گردش کر رہی ہے اس میں ماضی کے طالبان مخالف شمالی اتحاد کے قریب ہونے کا بھی شک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طارق عزیز الدین کے دور میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں شمالی اتحاد کے لوگوں کا آنا جانا کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔ لیکن یہ بھی جتنے منہ اتنی باتوں میں سے ایک بات ہے۔ اغوا شدہ سفیر نے اپنے ویڈیو پیغام میں حکومت سے زیادہ وزارت خارجہ کے سینئر ترین ساتھوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ اگرچہ بعض ذرائع کے مطابق جن دیگر دو سفارت کاروں کو انہوں نے اپیل کی ہے وہ ان کے ساتھی اور بیچ میٹ بتائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اس پر کافی تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں کسی اغواء شدہ شخص نے اس طرح کی اپیل کم ہی کی ہے۔ سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان کے علاوہ انہوں نے دو دیگر سینئر ترین سفارت کاروں کو بھی اپنی اپیل میں شامل کیا۔ ان میں ایران میں پاکستان کے سفیر شفقت سعید اور چین میں پاکستانی سفیر سلمان بشیر شامل ہیں۔ یہ دونوں ریاض محمد خان کی آئندہ چند ماہ میں متوقع ریٹائرمنٹ کے بعد خارجہ سیکرٹری بننے کے دو بڑے امیدوروں کے طور پر سامنے آچکے ہیں۔ ان میں سے بھی سلمان بشیر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا خارجہ سیکرٹری کے اہم ترین عہدے پر فائز کیے جانے کا امکان زیادہ ہے۔ لیکن طارق عزیز الدین کی جانب سے ریاض محمد خان کے علاوہ ان دو سینئر ترین اہلکاروں سے اپیل کی وجہ کوئی زیادہ واضع نہیں ہے۔ آیا اپیل میں شمولیت کی وجہ ان کی وزارت خارجہ میں سینیارٹی ہے یا اس کا جہاں وہ تعینات ہیں اس سے بھی کچھ لینا دینا ہے۔ اس پر بھی واضع جواب نہ ہونے کی وجہ سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ویڈیو پیغام سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اغواء شدہ سفیر کا معاملہ قومی ایجنڈے میں واپس لوٹ آیا ہے۔ عام انتخابات اور پھر اس کے بعد کی حکومت سازی اور ججوں کے اشوز نے اس اہم قضیے کو قدرے بھلا دیا تھا۔ لیکن اب ایک مرتبہ پھر اس کی ہر چینل اور اخبار میں چرچا ہے۔ حکومت کو اغوا کاروں کے اگلے اقدام سے قبل جو ایک نیا پیغام بھی ہوسکتا ہے اور اس سے بڑھ کر بھی کچھ ان کے مطالبات پر کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ | اسی بارے میں مغوی پاکستانی سفیر ’طالبان کے قبضے میں‘19 April, 2008 | پاکستان سفیر لاپتہ، غفلت پر خاصہ دار گرفتار14 February, 2008 | پاکستان پاکستانی سفیر: پیش رفت نہیں11 February, 2008 | پاکستان ’سفیر کا اغواء دوسری بار ہوا‘13 February, 2008 | پاکستان طارق عزیز الدین کی تلاش جاری13 February, 2008 | پاکستان طالبان: اغواء برائے تاوان کی حکمتِ عملی19 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||