BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کورکمانڈرز لاہور اورمنگلا تبدیل

کورکمانڈر
جنرل اشفاق پرویز کیانی کہہ چکے ہیں کہ وہ فوج کو سیاست سے دور لےجائیں گے
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے ادارے میں تبادلوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے عسکری تجزیہ نگاروں کے بقول ان کی فوج پر گرفت مضبوط ہوگی۔

اس سلسلے میں پہلی اہم تبدیلیوں میں فوج کی نو میں سے دو کور کے کمانڈروں کی تبدیلی ہے۔ صدر پرویز مشرف کے قریب سمجھے جانے والے اور ان کے تعینات کردہ کور کمانڈر لاہور لیفٹینٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ کو تبدیل کرکے انہیں جنرل ہیڈکوارٹر میں چیف آف لاجیسٹک مقرر کیا ہے۔ نئے کور کمانڈر لاہور لیفٹینٹ جنرل اعجاز احمد بخشی بنائے گئے ہیں۔

دوسری اہم تبدیلی کور کمانڈر منگلا لیفٹینٹ جنرل سجاد اکرم کو تبدیل کرکے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کی ذمہ دار ایرا کے ڈپٹی چئیرمین مقرر کر دیےگئے ہیں۔ اس عہدے پر تعینات لیفٹینٹ جنرل ندیم احمد کو کور کمانڈر منگلا کی نئی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہ ایرا کے قیام سے اس کے ساتھ منسلک تھے اور انہیں میجر جنرل سے لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی بھی یہیں ملی تھی۔

اس کے علاوہ دو اور بڑی تبدیلیوں میں نیب کے سربراہ میجر جنرل مختار احمد کو تبدیل کرکے جنرل ہیڈکوارٹر میں بطور ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے جبکہ لیفٹینٹ جنرل شجاعت ضمیر ڈار کو بھی جنرل ہیڈکوارٹرز میں تعینات کیا ہے۔
فوجی خفیہ ادارے ملٹری انٹیلیجنس یا ایم آئی کے سربراہ میجر جنرل میاں ندیم اعجاز کے تبادلےکی بھی خبریں ہیں۔

تاہم اس کا سرکاری اعلان ابھی نہیں ہوا ہے۔ خیال ہے کہ ان کی جگہ روس میں پاکستان کے سابق دفاعی اتاشی میجر جنرل محمد آصف کو تعینات کیے جانےکی اطلاعات ہیں۔

عسکری تجزیہ نگار بریگیڈئر ریٹائرڈ شوکت قادر کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ایک معمول کی کارروائی ہیں تاہم اس سے بلاشبہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ ’فوج میں جرنیلوں کو ادھر ادھر کیا جاتا ہے۔ تازہ تبدیلیاں بھی ان لوگوں کی جانب سے اپنی مدت پوری کرنے کے بعد لائی گئی ہیں۔‘

فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کہہ چکے ہیں کہ وہ فوج کو سیاست سے دور لےجائیں گے۔ اس بیان سے شبہات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا وہ صدر پرویز مشرف کی نئی حکومت کےساتھ تصادم کی صورت میں ان کی مدد کو آئیں گے یا نہیں۔

اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد