وجاہت محافظ: ضمانت پر رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی چوہدری وجاہت حسین کے تین سیکیورٹی گارڈز کو ناجائز اسلحہ رکھنے اور کارِ سرکار میں مداخلت پر پولیس نے ایبٹ آباد کے تحصیل ناظم کی شخصی ضمانت پر رہا کردیا۔ چوہدری وجاہت حسین جو مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے چھوٹے بھائی ہیں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مری اور ایبٹ آباد کے درمیان ڈونگا گلی کے قریب ٹریفک حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں سوار چار افراد کی لاشیں لینے کے لیے اپنے سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ گئے تھے۔ ان افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ وجاہت حسین کے ذاتی ملازم تھے۔ سیکیورٹی گارڈز نے پولیس کو لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال لے جانے سے روکا جس پر پولیس اہلکاروں اور مسلم لیگ قاف کے رکن قومی اسمبلی کے مسلح گارڈز کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی۔ تاہم پولیس اور وہاں پر موجود مقامی لوگوں نے ان مسلح افراد کو قابو کرلیا اور انہیں تھانے لے گئے۔ تھانہ ڈونگا گلی کے انچارج سعید اسلم عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی گیارہ بارہ سو فٹ نیچے گری تھی۔ پولیس اہلکار مقامی آباد ی کی مدد سے لاشوں کو وہاں سے نکال کر ہسپتال لے جانے کے لیے گاڑی میں ڈال رہے تھے کہ مذکورہ رکن قومی اسمبلی کے مسلح گارڈز وہاں آگئے۔ مسلح گارڈز نے لاشوں کو ہسپتال لے جانے والی پولیس کی گاڑی کے آگے اپنی گاڑی کھڑی کرنے کے علاوہ لاشوں کو پولیس کی گاڑی سے نیچے اُتار کر اپنی گاڑی میں رکھنے کی کوشش کی۔ سعید اسلم نے کہا کہ انہوں نے چوہدری وجاہت حسین کو بتایا کہ جب تک اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوگا اُس وقت تک وہ لاشیں ان کے حوالے نہیں کریں گے۔
تھانہ ڈونگا گلی کے انچارج کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے جب مذکورہ رکن اسمبلی کے مسلح گارڈز کو ایسا کرنے سے منع کیا تو انہوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ اُلجھنا شروع کر دیا۔ اس پر پولیس اہلکاروں نے انہیں پکڑا اور ان سے اسلحہ (کلاشنکوف) چھین کر انہیں پولیس سٹیشن لے گئے اور انہیں تھانے میں بند کردیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چوہدری وجاہت حسین کے محافظوں کے پاس اسلحے کا لائسنس بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری وجاہت حسین کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔مذکورہ تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق ان افراد کو جمعہ کو ایبٹ آباد کے تحصیل ناظم سیف اللہ خان، جن کا تعلق مسلم لیگ قاف سے بتایا جاتا ہے، کی شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چند روز تک چوہدری وجاہت حسین کے سیکیورٹی گارڈز اسلحہ لائسنس پیش نہ کرسکے تو پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ علاقے کے ڈی ایس پی محمود احمد نے اس حادثے کے بارے میں بتایا کہ چوہدری وجاہت کی فیملی مری سے ایبٹ آباد آرہی تھی کہ ان کے ذاتی ملازموں کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا۔ انہوں نے کہا کہ اُن میں سے ایک شخص کا سر بری طرح کچلا جاچکا تھا جس کے وجہ سے اس حادثے میں جابحق ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم کروانا ضروری تھا تاکہ اصل حقائق معلوم ہوسکیں۔ ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے جمعہ کو پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد لاشوں کو ورثا کے حوالے کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹمارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان افراد کی موت ٹریفک حادثے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ بی بی سی نے چوہدری وجاہت حسین سے اس ضمن میں ان کا مؤقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ واضح رہے کہ چوہدری وجاہت حسین اور ان کے پانچ ساتھیوں کو لندن میں ہیتھرو ائرپورٹ پر سکیورٹی اہلکاروں نے روک لیا تھا اور انہیں اٹھارہ گھنٹے تک حبس بےجا میں رکھنے کے بعد انہیں پاکستان ڈی پورٹ کردیا تھا۔ | اسی بارے میں غلطی کا اعتراف معذرت سے انکار02 February, 2008 | پاکستان چودھریوں کی ’سیاسی کنبہ پروری‘27 February, 2008 | پاکستان شجاعت، رشید، اعجازالحق کی ہار18 February, 2008 | پاکستان وجاہت کی حراست پر احتجاج25 January, 2008 | پاکستان چودھری وجاہت کی گرفتاری و رہائی24 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||