جسٹس نظام کیس کا فیصلہ محفوظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف جسٹس نظام احمد اور ان کے بیٹے کے قتل کا فیصلہ چوبیس مارچ تک محفوظ کرلیا ہے۔ یہ مقدمہ گزشتہ بارہ سال سے زیر سماعت تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں آج جسٹس نظام احمد اور ان کے اکلوتے بیٹے ندیم کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ آصف علی زرداری کے وکیل شہادت اعوان نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک جھوٹا مقدمہ ہے جو سیاسی انتقامی کارروائی کے طور پر بنایا گیا تھا۔ سرکاری وکیل نعمت اللہ رندھاوا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس مقدمے کی فائل گزشتہ روز ملی ہے جس کا انہوں نے مطالعہ کیا ہے مگر اس میں کسی بھی گواہ نے آصف علی زردای کے خلاف کوئی گواہی نہیں دی ہے، اس لیے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آصف علی زرداری پر یہ مقدمہ نہیں بنتا۔ عدالت نے دونوں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ چوبیس مارچ تک ملتوی کردیا ہے۔ اس مقدمے کے دیگر ملزمان اختر جاوید پیرزادہ، بلال شیخ اور بابر سندھو کے خلاف مقدمے کی سماعت چھبیس اپریل تک ملتوی کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ انیس سو چھیانوے کو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جسٹس نظام احمد اور ان کے بیٹے ندیم ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے قریبی رشتہ دار کیپٹن سکندر نے پولیس تھانے فیروز آباد میں ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ اس ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جسٹس نظام احمد نے عوامی مرکز کے علاقے میں واقع ایک قیمتی پلاٹ کی الاٹمنٹ کی مخالفت کی تھی۔ یہ پلاٹ اختر پیرزادہ نے خریدا تھا جسے آصف علی زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں زرداری پر چار مقدمات باقی ہیں14 March, 2008 | پاکستان کوٹیکنا کیس: آصف زرداری بری12 March, 2008 | پاکستان پی پی رہنماؤں کے خلاف ریفرنس ختم10 March, 2008 | پاکستان آصف کی غیر حاضری منظور08 March, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس سے فائدہ کسے ہو رہا ہے؟27 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||