عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 | | | گیس پائپ لائن دھماکے سے قلات مستونگ اور پشین کو گیس کی ترسیل معطل ہو گئی ہے |
بلوچستان کے شہر نوشکی میں ریل کی پٹڑی پر دھماکے کے بعد مال گاڑی الٹ گئی ہے جبکہ کوئٹہ کے قریب گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے جس سے قلات مستونگ اور پشین کو گیس کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔ ریلوے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ مال گاڑی ایران کی سرحد پر واقع شہر تفان جا رہی تھی کہ نوشکی کے قریب ریل کی پٹڑی پر دھماکہ ہوا ہے جس سے مال گاڑی کی چھ بوگیاں الٹ گئی ہیں اور انجن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی صحافی احمد یار نے بتایا ہے کہ مال گاڑی میں چاول اور آلو تھے جو ایران لے جائے جا رہے تھے۔انھوں نے کہا ہے کہ اس دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے البہ ریل کی پٹڑی اور ریل گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ ادھر کوئٹہ کے قریب کلی اختر آباد کے پاس اٹھارہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے کوئٹہ کے جنرل مینیجر مشتاق صدیقی نے بتایا اس گیس پائپ لائن سے قلات مستونگ پشین اور پاور ہاؤس کو گیس کی ترسیل کی جاتی ہے جو اس وقت معطل ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پائپ لائن کی مرمت کا کام جاری ہے۔ دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر گیس پائپ لائن پر حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شہر تربت اور تمپ میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ تربت اور تمپ میں واحد قمبر فضل حیدر محمد اقبال اور فیض محمد کو منظر عام پر لانے کے لیے ان کے اہل خانہ علامتی بھوک ہڑتال کر رہی ہیں جبکہ کوئٹہ بلوچ خواتین پینل کے زیر انتظام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں اور خواتین اپنے اپنے رشتہ داروں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ |