BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے خلاف درخواست

اعتزاز احسن
درخواست پر کئی وکلاء نے بطور گواہاں دستخط کیے ہیں
راولپنڈی اسلام آباد کے وکلاء نے صدر پرویز مشرف، پولیس اورحکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف افتخار محمد چوہدری اور دیگر پانچ ججوں کو معزول کرنے اور گھروں میں نظر بند کرنے کے خلاف مقامی تھانے میں ایک درخواست جمع کرائی ہے۔

اس درخواست میں جو تھانہ سیکریٹیرٹ میں جمع کرائی گئی ہے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف، وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایس پی اسلام آباد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں متعدد وکلاء نے گواہان کے طور پر دستخط بھی کیے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججوں سے یہ سلوک کیا گیا کہ انہیں گھروں میں نظربند ہوئے چار ماہ ہو چکے ہیں اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان مذکورہ افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو اڑتیس، تین سو اکتالیس، تین سو بیالیس اور تین سو چوالیس کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

تھانہ سیکرٹریٹ کے ڈیوٹی افسر نے یہ درخواست وصول کر لی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس پر قانونی رائے لینے کے لیے درخواست کو پولیس کی لیگل برانچ میں بھیجا جائے گا جس کے بعد اگر قانوناً ممکن ہوا تو کارروائی کی جائے گی۔

وکلاء نے یہ اقدام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن کی ہدایات کی روشنی میں اٹھایا ہے جنہوں نے پیر کے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو ان کے گھروں میں نظربند کرنے کے خلاف صدر سمیت دیگر حکومتی اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں گے۔

ادھر وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کے لیے جب ان کی رہائشگاہ پر جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ بعدازاں وہاں پر تعینات اسلام آباد کی انتظامیہ کے اہلکاروں نے مظاہرین کو تجویز دی کہ وہ چار افراد کو معزول چیف جسٹس کی رہائشگاہ تک لے جا سکتے ہیں لیکن مظاہرین نے انتظامیہ کی یہ درخواست مسترد کر دی۔

معلوم ہوا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سسر اور دیگر دو افراد ان سے ملاقات کے لیے جب ججز کالونی پہنچے تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں جانے سے روک دیا۔

وکلاء برادری نے دعوٰی کیا ہے کہ سینئر وکیل گوہر زمان نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی ہے تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

اعتزاز احسن کا بیاناعتزاز احسن کا بیان
’بحالی کے لیے نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘
اسی بارے میں
اعتزاز احسن کا موبائل پیغام
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد