BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 February, 2008, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاست اقتدار کے لیے نہیں: فاطمہ بھٹو

فاطمہ بھٹو
فاطمہ بھٹو نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں پر حکومت سے مل کر دھاندلی کرنے کا الزام لگایا
پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ سیاست میں ان کا مقصد اقتدار یا پارلیمنٹ کی رکنیت نہیں بلکہ عوامی جدوجہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوامی جہاد کرنا چاہتی ہیں تاکہ لوگوں کو انصاف، عزت اور احترام ملے۔

پچیس سالہ فاطمہ بھٹو نے حالیہ انتخابات کےدوران اپنی سوتیلی ماں اور پیپلزپارٹی شہید بھٹو کی سربراہ غنوی بھٹو کی لاڑکانہ میں انتخابی مہم چلائی۔ غنوی بھٹو کو لاڑکانہ کے حلقے این ای دو سو چار سے پیپلز پارٹی کے امیدوار شاہد بھٹو نے شکست دی۔

فاطمہ بھٹو نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں پر حکومت سے مل کر دھاندلی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد نہیں اور عدالتوں سے لوگوں کو انصاف نہیں ملتا اس لیے وہ اپنا کیس عوامی عدالت میں لے جائیں گی۔

فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضی بھٹو کو بینظیر بھٹو ہی کے دور اقتدار میں ایک مشکوک پولیس مقابلےمیں قتل کر دیاگیا تھا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد فاطمہ اور ان کے بھائی ذوالفقار جونئیر کو بعض لوگ بھٹو خاندان کا وارث سمجھتے ہیں مگر فاطمہ بھٹو کو یہ سیاسی وراثت پسند نہیں۔

 لاڑکانہ کے عوام کو پیپلزپارٹی والے گزشتہ بیس سالوں سے ووٹ کے نام پر لوٹ رہے ہیں اور انہوں نے لاڑکانہ کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لاڑکانہ کے چالیس لاکھ لوگوں کے لیے صرف ایک سرکاری ہسپتال ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور بیس سالوں میں صرف ایک قبرستان بنا ہے۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ وہ کسی ورثے کو حاصل کرنے یا سمبل بننے کے لیے نہیں سیاست میں نہیں آئیں۔ ان کے مطابق ان کے والد مرتضی بھٹو کی اپنے خاندان میں جدوجہد کی ایک روایت رہی ہے اور وہ اسی روایت کو برقرار رکھیں گی۔ نچلی سطح پر عام لوگوں کے ساتھ مل کر وہ عوامی جہاد کریں گی تاکہ لوگوں کی بنیادی ضروریات کے مسائل حل ہوسکیں۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر لکھاری ہیں مگر سیاست میں بھی سرگرم ہیں۔ ان کی جماعت پیپلزپارٹی شہید بھٹو امیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جماعت نہیں ہے۔ وہ غریب لوگوں کے ساتھ ان کی گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر نکل کر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑیں گے۔

فاطمہ بھٹو نے پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لاڑکانہ کے عوام کو پیپلزپارٹی والے گزشتہ بیس سالوں سے ووٹ کے نام پر لوٹ رہے ہیں اور انہوں نے لاڑکانہ کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لاڑکانہ کے چالیس لاکھ لوگوں کے لیے صرف ایک سرکاری ہسپتال ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور بیس سالوں میں صرف ایک قبرستان بنا ہے۔

فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی والے صرف جذبات پر کب تک سیاست کر سکیں گے، ان کے پاس عوام کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے۔

فاطمہ بھٹو نہ کہا کہ وہ اقتدار سے باہر رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ ان کا جہاد کوئی اسلامی یا پرتشدد جہاد نہیں بلکہ ایک قسم کی عوامی تحریک ہے۔

اسی بارے میں
اب یہ علم کون اٹھائےگا؟
28 December, 2007 | پاکستان
نوڈیرو کے بدلتے مناظر
21 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد