مشرف پر حملہ: ملزمان کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے تین ملزمان کی اپیل منگل کو سماعت کے لیے منظور کی ہے۔ ملزمان محمد عمران، محمد حنیف اور محمد اشرف کو کراچی میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اس سال پندرہ جنوری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ اسی مقدمہ میں ملوث تین دیگر ملزمان کو بری کردیا تھا۔ ملزمان کی جانب سے سزا کے خلاف گزشتہ ہفتے ان کے وکیل عبدالوحید کٹپر نے سندھ ہائی کورٹ اپیلٹ بینچ میں اپیل داخل کی تھی جسے منگل کو عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے تاہم آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق کالعدم جہادی تنظیم حرکت المجاہدین العالمی سے ہے اور انہوں نے پرویز مشرف کی ’افغان پالیسی‘ سے اختلاف کر تے ہوئے حرکت المجاہدین العالمی کے نام سے ایک تنظیم بنائی تھی۔ انہوں نے چھبیس اپریل سن دو ہزار دو کو پرویز مشرف کو اس وقت قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جب وہ صدارتی ریفرنڈم کے سلسلے میں کراچی آئے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے اس سلسلے میں شاہراہ فیصل پر بارود سے بھری گاڑی کھڑی کی تھی اور اسے اس وقت دھماکے سے اڑانے کا پروگرام بنایا
تھا جب پرویز مشرف کی گاڑی وہاں سے گزرتی لیکن عین موقع پر فنی خرابی پیدا ہوجانے کے باعث بم پھٹ نہیں سکا جس کی وجہ سے منصوبہ ناکام ہوگیا۔ خصوصی عدالت نے پولیس کے سامنے اقبال جرم کرنے پر ملزمان کو سزا سنائی تھی۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ ملزمان پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور پولیس نے تشدد کرکے ان سے اقبال جرم کے بیانات پر دستخط کرائے لہذٰا ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ | اسی بارے میں مشرف حملہ: عمر قید کیخلاف اپیل21 January, 2008 | پاکستان کمانڈو سمیت 5 کو سزائے موت26 August, 2005 | پاکستان ’جنرل مشرف پر چھ حملوں کی کوشش‘07 June, 2005 | پاکستان قتل کی سازش پر دس سال سزا18 October, 2003 | پاکستان ’پانچ بم استعمال کیے گئے‘16 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||