BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 23:54 GMT 04:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویڈیو گیمز کا کاروبار کرنے پر قتل

ملزم خالد ڈار
ملزم خالد ڈار کے مطابق اس نے ایک مذہبی فرض انجام دیا ہے
پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں عدالت نے اس نوجوان ملزم کو جیل بھجوا دیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے ایک دوست کو محض اس لیے قتل کیا کہ وہ ویڈیو گیمز کا کاربار کرتا تھا جو ملزم کے نزدیک مذہبی طور پر ناجائز ہے۔

ملزم محمد خالد ڈار کو پولیس کی بھاری نفری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کے لیےلایا گیا تو اس نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور جہاد زندہ باد کے نعرے لگانا شروع کردیئے۔

مقتول محمد مشتاق گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں گوندلانوالہ کا رہائشی اور دونوں بازوں اور ایک ٹانگ سے معذور تھا۔ کمرہ عدالت کے باہر موجود اس کے بھائی محمد یونس نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم، مقتول محمد مشتاق کو کہتا تھا کہ ویڈیو گیمز کا کاروبار غیر اسلامی اور ناجائز ہے وہ اسے چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول نے ملزم محمد خالد ڈار کو کئی بار سمجھایا کہ یہ کاروبار ناجائز نہیں ہے اور معذوری کی وجہ سے وہ اس کے سوا اور کچھ کر بھی نہیں سکتا۔

مقتول کے بھائی کے بقول ملزم اس کی وضاحت کو قبول نہیں کرتا تھا اور اسے جان سے مارنےکی دھکمیاں دینے لگا تھا جس سے مقتول اکثر پریشان رہتا تھا۔اس نے اپنی جان بچانے کے لیے دکان پر ویڈیو گیمز برائے فروخت کا بورڈ بھی لگا دیا تھا۔

مقتول محمد مشتاق کا شناختی کارڈ
مقتول محمد مشتاق جسمانی طور پر معذور تھا

محمد یونس نے روتے ہوئے کہا کہ ملزم پھر بھی باز نہ آیا اور منگل کی صبح اسے ذبح کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا بھائی معذوری کی وجہ سے کوئی مزاحمت بھی نہ کر سکا۔

پولیس نے اہلِ علاقے کی نشاندہی پر بدھ کو ملزم کو گرفتار کیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے اور اس سے آلہ قتل یعنی چھرا برآمد کر لیا گیا۔

ملزم محمد خالد ڈار نے تھانہ اروپ کی حوالات میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک مذہبی فرض انجام دیا ہے اور اسے کوئی پشیمانی نہیں ہے۔

گوجرانوالہ
گوجرانوالہ کے قریب گاؤں کی ایک گلی میں لکھا ہوا سائن بورڈ

ایک اندازے کےمطابق گوندلانوالہ پنجاب کا وہ واحد گاؤں ہے جس کے سب سے زیادہ نوجوان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں ملزم محمد خالد ڈار اور مقتول محمد مشتاق گوجرانوالہ کے اسی نواحی گاؤں کے رہائشی ہیں۔ اس گاؤں کو شہیداں والا پنڈ بھی کہا جاتا ہے۔

ملزم نے کہا کہ اس کا تعلق ایک کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ہےاور وہ پندرہ برس پہلے افغانستان اور کشمیر میں جہاد کی ٹریننگ لے چکا ہے۔ملزم نے کہا کہ جہادی تربیت میں انسان کو ذبح کرنے کی تربیت بھی شامل تھی اسی لیے اسے محمد مشتاق کو ذبح کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

ملزم نے کہا کہ اس نے کلمہ پڑھ کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور محمد مشتاق کا گلا کاٹ دیا۔اس نے کہا کہ اس نے مقتول کا موبائل بھی اٹھا لیا تھا کہ اب مقتول مر چکا ہے اس لیے یہ موبائل فون اب خود اس کے کام آئے گا۔

تفتیشی افسر محمد یعقوب نے عدالت کو بتایا کہ آلہ قتل چھرا اور مقتول سے چھینا گیا موبائل فون برآمد ہوچکا ہے اور ملزم نے اقبال جرم کر لیا ہے اس لیے اس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے ملزم کو عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیاہے۔

دکان جو اب بند ہو گئی
ویڈیو گیمز کی وہ دکان جس کی وجہ سے قتل ہوا

گوجرانوالہ میں ہی گذشتہ برس بیس فروری کو ایک شخص غلام سرور نے صوبائی مشیر ظل ہما کو مذہبی بنیادوں پر قتل کر دیا تھا۔عدالت نے اسے دو بار سزائے موت سنائی لیکن تاحال اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا۔اسی ملزم پر الزام تھا کہ اس نے ظل ہما کے قتل سے پہلے چار پانچ طوائفوں کو بھی ہلاک کیا تھا لیکن عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا تھا۔

مذہبی بنیادوں پر ہونے والے حالیہ قتل کے ملزم محمد خالد ڈار نے تین چار مہینے پہلے علاقے میں ایک دوسری ویڈیو گیمز کی دکان کو آگ لگا دی تھی لیکن شکائت کے باوجود پولیس نے اسے گرفتار نہیں کیا تھا۔

ملزم محمد خالد ڈار کے تین میں سے دو بھائی منشیات فروشی اور ڈکیتی کے الزام میں پہلے سے جیل میں ہیں۔تفتیشی پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزم ذہنی مریض نہیں ہے البتہ مذہبی جنونی اور انتہاپسند جذبات کا اس پر کافی اثر ہے۔

اسی بارے میں
ظل ہما قتل کیس، تفتیشی ٹیم
24 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد