پی پی پی سندھ کےگیارہ ’اشتہاری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر قائم علی شاہ اور سابق قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی نثار کھوڑو سمیت گیارہ رہنماؤں کو ہنگامہ آرائی کے ایک مقدمے میں منگل کو اشتہاری ملزم قرار دے کر پولیس کو حکم دیا ہے کہ انہیں اکتیس جنوری تک گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ آصف احمد کی عدالت میں عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اٹھارہ جون سن دوہزار چار کو پپلزپارٹی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات منورسہروردی کے قتل کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی میں پپلزپارٹی سندھ کے صدر قائم علی شاہ، سابق قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی نثار کھوڑو، راشد ربانی، مہرین بھٹو، ماروی مظہر، سسی پلیجو سمیت گیارہ افراد ملوث ہیں اور عدالت کو اس مقدمہ میں مطلوب ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ پولیس نے کئی مرتبہ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے مطلوبہ افراد کے گھر پر چھاپے مارے لیکن ان میں سے کوئی بھی گھر پر موجود نہیں تھا۔ واضح رہے کہ عدالت اس مقدمہ میں مطلوب افراد کو متعدد قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری اور بعد ازاں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے اور اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد منگل کو عدالت نے مطلوبہ گیارہ افراد کو اشتہاری ملزم قرار دے کر پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ان ملزمان کے مکانات اور دوسرے مقامات پر اشتہارات آویزاں کرے اور ہر ممکن طریقے سے انہیں گرفتار کرکے 31 جنوری تک عدالت میں پیش کیا جائے۔ منورسہروردی کے قتل کے فوری بعد کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی تھی اور کئی گاڑیاں جلائے جانے اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات رونماء ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’پارٹی قیادت کا فیصلہ اتوار کو‘28 December, 2007 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان ’چارلاکھ ورکروں کےخلاف مقدمات‘09 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||