BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 January, 2008, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راولپنڈی: ہتھوڑا گروپ کی یاد تازہ

پنجاب پولیس(فائل فوٹو)
جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہتھوڑا گروپ منظر عام پر آیا تھا جس نے مختلف وارداتوں میں پچاس سے زائد افراد کو ہلاک کردیا تھا
راولپنڈی میں کینٹ کے علاقے میں اتوار کے روز نامعلوم مسلح گروہ کی طرف سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو ’ہتھوڑے‘ مار کر موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد شہر میں بائیس سال کے بعد ایک مرتبہ پھر ہتھوڑا گروپ کی یاد تازہ ہوگئی۔

پیپلز کالونی میں اس واقعے کا شکار ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں محمد جمشید ان کی بیوی، دو بچے اور ان کے برادر نسبتی شامل ہے۔

قانون نافذ کرنے والوں کو اس واقعہ کا علم اس وقت ہوا جب گھر سے خون بہتا ہوا دیکھ کر اس کی اطلاع مقامی تھانے کو دی گئی۔

پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر سول ہسپتال میں پہنچا دیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں۔ مقامی پولیس اس واقعہ کو ڈکیتی کا رنگ دے رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے امکانات ہیں کہ ملزمان نے اس واردات کے دوران گھر والوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہو۔ جبکہ اس کے برعکس مقامی تھانے میں اس واقعہ کے بارے میں صرف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

علاقے کے ڈی ایس پی رانا شاہد کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزمان نے کسی آہنی چیز کے ساتھ ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے تاہم انہوں نے اس واقعہ میں ہتھوڑا گروپ کے ملوث ہونے کو قبل از وقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے ان افراد کو انتہائی بےدردی سے قتل کیا ہے کیونکہ لاشوں کے سر اور چہرے مسخ تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقتولین کے معدوں سے نمونے لے کر لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں تا کہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ آیا مقتولین کو قتل کرنے سے پہلے کوئی نشہ آور چیز تو نہیں دی گئی۔

حویلیاں کے رہائشی مقتول جمشید جو پیشے کے اعتبار سے رنگ ساز تھے اور کچھ عرصہ پہلے اپنے بیوی اور دو بچوں سمیت راولپنڈی شفٹ ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ جمشید کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔

واضح رہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملک میں ہتھوڑا گروپ پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا تھا اور اس گروپ نے مختلف وارداتوں کے دوران پچاس سے زائد افراد کو ہلاک کردیا تھا ان میں شیرخوار بچے بھی شامل تھے۔ ان افراد کے سروں پر ہتھوڑے مار کر ہلاک کیا گیا تھا اورپولیس کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ہتھوڑا گروپ کے ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔ اسی گروپ نے اسی عرصے کے دوران راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں واردات کے دوران گیارہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد