گلوکار علی ظفر اغوا، تاوان پر رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف نوجوان گلوکار علی ظفر کو ان کی منگیتر کے ہمراہ اغوا کر لیا گیا تھا، تاہم چار گھنٹوں کے بعد ملزم نے پچیس لاکھ روپے تاوان کے عوض انہیں آزاد کر دیا۔ پولیس سٹیشن ڈیفنس بی نے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کر کے ایف آئی آر کو سیل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سات اور آٹھ جنوری کی درمیانی شب کو پیش آیا ہے، لیکن ابھی تک ملزمان کا سراغ نہیں لگ سکا ہے۔ گلوکار علی ظفر اور ان کی منگیتر عائشہ ڈیفنس ایچ میں ایک دکان سے سی ڈیز خریدنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے تو ایک مسلح شخص اسلحہ کے زور پر ان کی گاڑی میں گھس گیا اور چار گھنٹوں تک گلوکار اور ان کی منگیتر کو یرغمال بنا کر رکھا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم نے علی ظفر کے گھروالوں سے پچیس لاکھ کی وصولی کے بعد ان دونوں کو چوبرجی کے علاقے میں اتار دیا اور ان دونوں کے موبائل فونز اورگاڑی سمیت موقع سے فرار ہوگیا۔ | اسی بارے میں ’اغواء برائے تاوان منافع بخش ترین کاروبار‘ 13 October, 2007 | پاکستان بگٹی پر اغواء برائے تاوان کے دو مقدمات03 February, 2006 | پاکستان ’تاوان کے لیے اغواء کیا گیا‘13 January, 2004 | پاکستان اغوا میں ملوث گروہ گرفتار01 November, 2003 | پاکستان جنوبی وزیرستان: تین سکاؤٹس اغواء08 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||