| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’تاوان کے لیے اغواء کیا گیا‘
پنجاب کے لاپتہ صوبائی وزیر نعیم اللہ شاہانی کے والد سابق رکن قومی اسمبلی امان اللہ خان شاہانی نے اپنے مغوی بیٹے کی ان کے سسرالی خاندان سے کسی چپقلش کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا ہو گا۔ نعیم اللہ شاہانی جس علاقے میں غائب ہوئے وہ ان کی دوسری اہلیہ کے حوالے سے ان کا سسرالی علاقہ بھی ہے اور نعیم کے ساتھ ان کا برادرِ نسبتی اور اہلیہ کا بھائی بھی اغوا ہوا ہے جو پختون ہے۔ انہوں نے کہا کہ وانا آپریشن کے با عث علاقہ کے لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ انہیں ایسے ہی کسی معاملہ کے ردعمل میں اغوا کیا گیا ہو۔ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نےکہا ہے کہ اس معاملہ کو وانا آپریشن کا انتقام یا اغوا برائے تاوان کی واردات قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے۔ ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نو جنوری سے ہی ان کاگھر سے رابطہ منقطع تھا لیکن ان کی گمشدگی کی خبر تین روز بعد پھیلی۔ ان کی دوسری اہلیہ پختون ہیں جن سے ان کی شادی دس سال قبل ہوئی تھی اور اس اہلیہ سے ان کے تین بیٹے بھی ہیں۔ جب کہ ان کی پہلی شادی ان کی ماموں زاد بہن سے ہوئی تھی جن سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ امان اللہ خان شاہانی نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں خبریں آنےسے ان کے بیٹے کی بازیابی کا معاملہ متاثر ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||