| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اغوا میں ملوث گروہ گرفتار
سندھ پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل پولیس سید کمال شاہ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے شہر میں اغوا برائے تاوان کی گیارہ وارداتوں میں ملوث ایک گروہ کا پتا لگا کر سرغنہ سمیت اس کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ کمال شاہ کا کہنا تھا کہ گروہ کے دوسرے ارکان کی جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں تلاش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں گروہ کا سرغنہ رستم عرف حیدر عرف خان صاحب، آصف جونیجو اور علاؤالدین جونیجو شامل ہیں۔ سید کمال شاہ نے کہا کہ رستم کا تعلق ایرانی بلوچستان سے ہے۔ تاہم انہوں نے آصف اور علاؤالدین کی ولدیت کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ جبکہ پریس نوٹ میں بھی دونوں کی ولدیت کا ذکر نہیں ہے۔ جبکہ رستم کی ولدیت غلام رسول تحریر ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اہم شخصیات کے بیٹے ہیں اور ایک شخصیت حکمران جماعت کی حلیف ہے۔ ادھر پولیس اور سٹیزن لائیزن کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف جونیجو حیدرآباد میں سپیشل برانچ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ممتاز جونیجو کا بیٹا جبکہ علاؤالدین سانگھڑ کے ضلعی ناظم روشن جونیجو کا بیٹا ہے۔ انسپکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ گروہ سے وابستہ لڑکیاں تعلیم یافتہ ہیں جو ٹیلی فون پر لڑکوں کو پھانس کر اغوا میں معاونت کرتی تھیں۔ کمال شاہ کا کہنا تھا کہ ان لڑکیوں اور دو دوسرے ملزمان معشوق بروہی اور ارشد عرف پپّو کی تلاش جاری ہے۔ کمال شاہ کا کہنا تھا کہ گیارہ وارداتوں میں سے ایک دواساز کمپنی کے بیٹے کا اغوا بھی ہے جس میں مغوی علی رضا کو ستّر سے پچھتر لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کر وایا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق علی رضا کی رہائی صدر جنرل پرویز مشرف کی ذاتی دلچسپی کے بعد ممکن ہوئی۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس رقم برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوران تفتیش رستم نے اقرار کیا ہے کہ وہ تاوان کی رقم ایران میں اپنے بھائیوں کو بھیجتا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||