’آٹا دیں ورنہ کارروائی ہوگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے آٹا مل مالکان کو دھمکی دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر مارکیٹ میں آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں بصورت دیگر انکے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ پشاور میں سنچیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری خوراک ڈاکٹر حفظ الرحمن نےکہا کہ فلور مل مالکان کوٹے کے مطابق مارکیٹ کو آٹا فراہم نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سرحد کے تقریباً سوفلور ملوں کو روزانہ مجموعی طور پر تین ہزار ٹن گندم رعایتی قیمتوں پر فراہم کیا جارہا ہے تاہم انکے بقول مل مالکان ضرورت کے مطابق آٹا مارکیٹ کو فراہم نہیں کررہا ہے۔ انکے مطابق صوبے کو روزانہ چھ ہزار ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔ تین ہزار ٹن تاجر پنجاب سے براہ راست برآمد کرتے ہیں۔انکے بقول حکومت کے پاس اب بھی پینتیس ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ سکیریٹری خوراک نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ فلور ملوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عام صارف کو بیس کلو آٹے کی بوری تین سو دس روپے میں فراہم کریں مگر بقول انکے اس وقت پانچ سو روپے میں بیس کلو آٹے کی بوری دستیاب ہے۔ ڈاکٹر حفظ الرحمن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ ماہ تک صوبہ سرحد کو ڈھائی لاکھ ٹن گندم فراہم کردے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کے بعض دیگر علاقوں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آٹے کی قلت پیدا ہوئی ہے اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جسکے خلاف مختلف علاقوں میں شہریوں کا احتجاج جاری ہے۔ | اسی بارے میں سندھ میں آٹے کا بحران 09 December, 2007 | پاکستان پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ 13 December, 2007 | پاکستان گندم کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ 17 December, 2007 | پاکستان اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا10 February, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||