BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 January, 2008, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آخری گاڑی تک سروس چلے گی‘

 فیصل ایدھی
آخری گاڑی تک ہم اپنی سروس کو بند نہیں کریں گے: فیصل ایدھی
ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کے قتل کے فوری بعد کراچی سمیت پورے صوبے میں بھڑکنے والی ہنگاموں کی آگ نے ایدھی فانڈیشن کی املاک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ان کےمتعدد اداروں پر حملوں میں چالیس ایمبولینس کو نقصان پہنچایا۔

اتنے نقصانات سہنے کے باوجود ایدھی فانڈیشن کےعہدیداروں کی زبان پر شکایت نہیں ہے۔ عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے کہا کہ ’بینظیر کی شہادت سےملک کا جو نقصان ہوا ہے اس کے سامنے ہمارا (ایدھی فانڈیشن) نقصان کچھ بھی نہیں ہے۔وہ اس ملک کے لیے واحد امید تھیں وہ سب سے بڑا نقصان ہے۔‘

مشتعل لوگوں نے کراچی اور اندرون سندھ میں ایدھی کی اکیس ایمبولینسوں کو بھی نذر آتش کردیا اور مزید بیس کو توڑ پھوڑ کر کے نقصان پہنچایا۔لیکن اس کے باوجود ادارے نے اپنی سروس بند نہیں کی۔

فیصل ایدھی کہتے ہیں:’بینظیر بھٹو کی موت کے سامنے ہماری چالیس گاڑیوں کا نقصان کچھ بھی نہیں، کراچی سمیت پورے سندھ میں ہماری ساڑھے تین سو گاڑیاں ہیں، ہماری آخری گاڑی بھی اگر صحیح سلامت رہی تو ہم اپنی سروس کو بند نہیں کریں گے۔‘

فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایدھی سینٹرز اور ایمبولینسوں کو اتنے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچا لیکن اس کے باوجود وہ ان لوگوں سے ہمدردی رکھتے ہیں جو بینظیر بھٹو کی موت کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پائے۔

ایدھی ایمبولینس
بینظیر بھٹو کےقتل کے بعد کراچی میں ایدھی ایمبولینس کی چالیس گاڑیاں کو نقصان پہنچایا گیا

فیصل ایدھی نے بتایا کہ کراچی کے قریب سپرہائی وے پرایدھی ویلج پر بھی حملہ ہوا جہاں دماغی طور پر معذور اور لاوارث لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔وہاں کھڑی ہوئی سولہ ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی اور وہاں رہنے والے بوڑھےاور معذور افراد کو بھی مارا پیٹا گیا۔‘

فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ یہ پیپلز پارٹی والوں نے نہیں بلکہ متعصبانہ ذہنیت رکھنے والوں کی کارروائی ہے۔’ پی پی والے متعصبانہ سوچ نہیں رکھتے وہ ہماری عزت کرتے ہیں اور ہم بھی۔‘

لیکن ان سے پوچھا گیا کہ عصبیت پسندوں کو ایدھی کی املاک کو نقصان پہنچانے کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے تو وہ پھر جذباتی ہوگئے۔ ’وہ تو انسانیت کے دشمن ہیں، یہ جو چھوٹی چھوٹی تنظیمیں ہیں جو نسل پرست ہیں وہ تو سکھاتے ہی یہی ہیں۔مطلب ان کا وجود ہی دوسروں قوموں سے نفرت پر قائم ہے۔‘

پیپلز پارٹی والے متعصب نہیں
 ’یہ پیپلز پارٹی والوں نے نہیں کیا۔یہ دوسرے جو شرپسند عناصر ہیں جو متعصبانہ ذہنیت رکھتے ہیں انہوں نے یہ نقصان پہنچایا۔ پی پی والے متعصبانہ سوچ نہیں رکھتے وہ ہماری عزت کرتے ہیں اور ہم بھی۔‘
فیصل ایدھی

آہستہ آہستہ فیصل ایدھی کو حالیہ ہنگاموں کے دوران سروس جاری رکھنے میں درپیش مشکلات یاد آنے لگیں۔ ’ہمارے بہت سے کاموں میں تاخیر ہوئی، پیٹرول اور سی این جی نہیں مل رہا تھا اور بڑی مشکل پیش آ رہی تھی۔سروس کو معمول کے حساب سے چلانے میں، پھر اتنی بڑی تعداد میں ہم پر جو حملے ہوئے اس سے ہمارے کارکنوں کا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا۔‘

فیصل ایدھی نے بتایا کہ اپنے رضاکاروں کےحوصلے کو بحال کرنے کے لیے وہ اور ان کے ادارے کے دوسرے ذمہ دار بھی خود میدان میں آگئے جس سے رضاکارروں میں اعتماد بحال ہوا اور کام چلتا رہا۔

لیکن کیا اتنے شدید ہنگاموں میں انہیں کسی بھی لمحے پر اپنی سروس کو بند کرنے کا خیال نہیں آیا؟ اس سوال پر انہوں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا ’ایسے ہنگاموں میں تو سروس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے آج اگر (ان ہنگاموں میں) ہلاکتیں کم ہیں تو اس کی ایک وجہ ہماری سروس ہے ورنہ تو زیادہ اموات ہوسکتی تھیں۔‘

فیصل ایدھی سے اس بات چیت کو وہاں موجود ایدھی کے ایک ضعیف العمر رضاکار بھی سن رہے تھے۔انہوں نے اپنا تعارف عبدالستار ایدھی کے سیکرٹری انور کاظمی کی حیثیت سے کرایا۔

شرپسندوں کی پسند
 ’پتہ نہیں شرپسند عناصر ہمیں کس شکل میں کس رنگ میں یا کس زبان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان سے درخواست ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ انسانیت کے ناطے انہیں تنگ نہ کریں ممکن ہے اگلی دفعہ ہم ان ہی کی مدد کر رہے ہوں، ہم تو کسی مدد کرتے وقت نہیں دیکھتے کہ اس کا رنگ، نسل یا زبان کیا ہے۔‘
فیصل ایدھی
’پوری دنیا میں ایمبولینس کو کہیں نہیں چھیڑا جاتا بلکہ اس کی عزت کی جاتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی بچانے کے لیے آرہی ہے تو اگر آپ ایمبولینسوں کو نقصان پہنچائیں گے تو دراصل آپ اپنی زندگی کو نقصان پہنچائیں گے۔‘

انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’آج کوئی دوسرا ہے کل آپ ہوسکتے ہیں۔ اور یہ تصور کریں کہ آپ سڑک پر تڑپ رہے ہوں اور کہیں کوئی ایمبولینس کو روک رہا ہو تو آپ کا کیا حال ہوگا تو جو لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہیں میری ان سے یہی اپیل ہے کہ وہ اپنی ذات کے حوالے سے سوچیں کہ ایمبولینس سروس کتنی ضروری ہے۔‘

اس موقع پر فیصل ایدھی کو بھی کچھ یاد آگیا۔ ’پتہ نہیں شرپسند عناصر ہمیں کس شکل میں کس رنگ میں یا کس زبان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان سے درخواست ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ انسانیت کے ناطے انہیں تنگ نہ کریں ممکن ہے اگلی دفعہ ہم ان ہی کی مدد کر رہے ہوں، ہم تو کسی مدد کرتے وقت نہیں دیکھتے کہ اس کا رنگ، نسل یا زبان کیا ہے۔‘

دفتر واپس آتے میں سوچ رہا تھا کہ ایدھی کے رضاکار کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں وہ نہ صرف عام حالات میں ٹریفک حادثات کے بعد بلکہ فائرنگ، بم دھماکوں، ہڑتالوں، ہنگاموں اور بارہ مئی جیسے مشکل اور تکلیف دہ مواقع پر بھی سخت خطرے میں اپنی جانوں پر کھیل کر لوگوں کو ہسپتالوں تک پہنچاتے ہیں اور لاوارث لاشوں کی بھی وارثی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد