نہ گھروں میں جگہ او نہ دلوں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی معاشرے میں اب سے چند برس پہلے تک اولڈ ہومز کا کوئی وجود نہیں تھا وہ شاید اس لیے کہ بزرگوں کے لیے گھروں میں ہی بہت جگہ تھی اور دلوں میں بھی۔ لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور اب پاکستان میں اولڈ ہومز بھی ہیں اور ان میں رہنے والے بزرگ بھی۔ چھ سات بستروں کا ایک بڑا سا کمرہ اور اس میں لیٹے ہوئےچند بوڑھے، اپنے اپنے بستروں پر لیٹے لیٹے اپنی یادوں کی دنیا میں گم، یہ تھا اسلام آباد میں واقع ایدھی اولڈ ہوم کا منظر جو میرے اس کمرے میں داخل ہونے کےساتھ ہی بدل گیا اور سب کے سب بزرگ اپنی ماضی کی یادوں سے نکل کرمیرے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں کسی اپنے کا انتظار ہو، کسی ایسے انجانے کا جو اُن کے پاس بیٹھے اُن سے باتیں کرے۔ اسی اولڈ ہوم میں ایک بزرگ ناصر فرید بھی ہیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بتایا کہ ’میں دنیا میں اس طرح گم ہوا کہ اپنے بارے کچھ سوچ ہی نہیں سکا۔ میں نے پاکستان کے علاوہ بنکاک میں بھی کافی عرصہ کام کیا لیکن پھر بھی کچھ زیادہ پیسے نہیں بچا سکا۔‘
’چاہے عید ہو یا کوئی اور خوشی کا تہوار، ان اولڈ ہومز میں رہنے والے والدین کا انتظار، انتظار ہی رہتا ہے اور اُن سے ملنے کوئی نہیں آتا۔‘ ایک اور بزرگ ملک امیر محمد خان کا کہنا تھا کہ ’جب جمع پونجی ختم ہو جائے تو بزرگوں کی عزت بھی ختم ہو جاتی ہے، اور معاشرے میں اب بزرگوں کا وہ مقام نہیں، جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ نہ جانے کیا وجہ ہے کہ اب بچوں کو اپنے والدین سے وہ لگاؤ نہیں ہے، ایک والد یا والدہ اپنے پانچ چھ بچوں کو تو پال سکتے ہیں لیکن بڑھاپے میں یہ تمام بچے مل کر اپنے والدین کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم اپنی قدروں سے بہت دور جا چکے ہیں۔ اگر مجھے اس اولڈ ہوم کا پتہ نہ ہوتا تو میں بھی ایک بھکاری ہوتا اور کسی سڑک پر گرا پڑا ہوتا۔‘
اب تو اسلام آباد میں کاروباری نقطۃ نگاہ سے کچھ لوگ ایسے پرائیویٹ اولڈ ہومز بھی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ معاشرے میں موجود وہ بزرگ جو مالی لحاظ سے تو مستحکم ہیں، لیکن اپنے بچوں یا قریبی رشتہ داروں سے دوری کے باعث کسی ایسی جگہ کی تلاش ہے جہاں وہ اپنے ہم عمروں سے مل کر اپنے دکھ درد بانٹ سکیں اور عزت کی زندگی گزار سکیں۔ بزرگوں کو کہیں تو توجہ چاہیے، چاہے وہ اولڈ ہومز ہی کیوں نہ ہوں، |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||