BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 20:45 GMT 01:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نہ گھروں میں جگہ او نہ دلوں

اسلام آباد کا ایدھی اولڈ ہوم
اولڈ ہوم میں بزرگ اپنے ہم عمروں سے مل کر اپنے دکھ درد بانٹتے ہیں
پاکستانی معاشرے میں اب سے چند برس پہلے تک اولڈ ہومز کا کوئی وجود نہیں تھا وہ شاید اس لیے کہ بزرگوں کے لیے گھروں میں ہی بہت جگہ تھی اور دلوں میں بھی۔ لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور اب پاکستان میں اولڈ ہومز بھی ہیں اور ان میں رہنے والے بزرگ بھی۔

چھ سات بستروں کا ایک بڑا سا کمرہ اور اس میں لیٹے ہوئےچند بوڑھے، اپنے اپنے بستروں پر لیٹے لیٹے اپنی یادوں کی دنیا میں گم، یہ تھا اسلام آباد میں واقع ایدھی اولڈ ہوم کا منظر جو میرے اس کمرے میں داخل ہونے کےساتھ ہی بدل گیا اور سب کے سب بزرگ اپنی ماضی کی یادوں سے نکل کرمیرے قریب آ کر بیٹھ گئے۔

یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں کسی اپنے کا انتظار ہو، کسی ایسے انجانے کا جو اُن کے پاس بیٹھے اُن سے باتیں کرے۔

اسی اولڈ ہوم میں ایک بزرگ ناصر فرید بھی ہیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بتایا کہ ’میں دنیا میں اس طرح گم ہوا کہ اپنے بارے کچھ سوچ ہی نہیں سکا۔ میں نے پاکستان کے علاوہ بنکاک میں بھی کافی عرصہ کام کیا لیکن پھر بھی کچھ زیادہ پیسے نہیں بچا سکا۔‘

ناصر فرید
’پھر پشاور میں ایک حادثے میں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگنے سے بستر پر پڑ گیا۔ اور جو جمع پونجی تھی وہ سب کی سب علاج پر لگ گئی۔ پھر ایک دوست کے کہنے پر یہاں اس اولڈ ہوم آ گیا۔ جب میں یہاں آ رہا تھا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کاش میں نے بھی شادی کی ہوتی اور میرے بھی بچے ہوتے۔ لیکن یہاں آنے کے بعد میری ایسے والدین سے بھی ملاقات ہوئی، جن کے بچے خود اُنکو ایسے اداروں میں چھوڑ جاتے ہیں اور اُن والدین کو میں نے بچوں کا انتظار کرنے کے علاوہ اور کچھ کرتے نہیں دیکھا۔‘

’چاہے عید ہو یا کوئی اور خوشی کا تہوار، ان اولڈ ہومز میں رہنے والے والدین کا انتظار، انتظار ہی رہتا ہے اور اُن سے ملنے کوئی نہیں آتا۔‘

ایک اور بزرگ ملک امیر محمد خان کا کہنا تھا کہ ’جب جمع پونجی ختم ہو جائے تو بزرگوں کی عزت بھی ختم ہو جاتی ہے، اور معاشرے میں اب بزرگوں کا وہ مقام نہیں، جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ نہ جانے کیا وجہ ہے کہ اب بچوں کو اپنے والدین سے وہ لگاؤ نہیں ہے، ایک والد یا والدہ اپنے پانچ چھ بچوں کو تو پال سکتے ہیں لیکن بڑھاپے میں یہ تمام بچے مل کر اپنے والدین کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم اپنی قدروں سے بہت دور جا چکے ہیں۔ اگر مجھے اس اولڈ ہوم کا پتہ نہ ہوتا تو میں بھی ایک بھکاری ہوتا اور کسی سڑک پر گرا پڑا ہوتا۔‘

امیر محمد خان
اسلام آباد میں ایدھی اولڈ ہومز کے انچارچ محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ’ہم یورپ اور امریکہ میں تو اولڈ ہومز کا سنتے رہے تھے لیکن اب ہمارے ہاں بھی اس چیز کی ضرورت ہے کہ اپنے معاشرے کے عمر رسیدہ افراد کے لیے جن کا کوئی اور ٹھکانا نہیں،ایسے اولڈ ہومز بنائیں۔

اب تو اسلام آباد میں کاروباری نقطۃ نگاہ سے کچھ لوگ ایسے پرائیویٹ اولڈ ہومز بھی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ معاشرے میں موجود وہ بزرگ جو مالی لحاظ سے تو مستحکم ہیں، لیکن اپنے بچوں یا قریبی رشتہ داروں سے دوری کے باعث کسی ایسی جگہ کی تلاش ہے جہاں وہ اپنے ہم عمروں سے مل کر اپنے دکھ درد بانٹ سکیں اور عزت کی زندگی گزار سکیں۔

بزرگوں کو کہیں تو توجہ چاہیے، چاہے وہ اولڈ ہومز ہی کیوں نہ ہوں،
اولڈ ہومز کا تصور اس سے پہلے تو صرف مغربی ممالک میں ہی تھا اور اسے مشرقی معاشرے کی روایات کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ لیکن وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور مغربی معاشرے کے اثرات ہر جگہ نظر آ رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد