عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حکومتی اہلکاروں نے گرفتاریوں کی تفصیلات نہیں بتائی |
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام نے ایک مبینہ خودکش حملہ آور سمیت آٹھ مشتبہ عسکریت پسندوں کے گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دوسری طرف مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے غیرقانونی ایف چینل نے نشریات دوبارہ شروع کردی ہیں۔ سوات میڈیا سینٹر کے ایک اہلکارنے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے پیر کی شام کوشورش زدہ علاقے ایوب پل پر ایک مشتبہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کرلیا تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ انکے بقول فضاء گٹ کے مقام سے مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے سات قریبی ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جنہیں مزید تفتیش کے لیے ایک نامعلوم مقام پرمنتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سوات میں ایک مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے غیرقانونی ایف ایم چینل نے دوبارہ نشریات شروع کردی ہیں اور انہوں نے اپنی تقریر میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ ’شرعی نظام کے نفاذ کے لیے انکی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں۔‘ ان کے بقول ایف ایم چینل کی فریکوئنسی کمزور ہے اور ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ نشریات دوردراز علاقے سے ہو رہی ہیں۔مولانا فضل اللہ کے ایف ایم چینل نے تقریباً ڈیڑہ ماہ قبل اس وقت نشریات معطل کردی تھیں جب ان کے مسلح ساتھیوں نے علاقہ چھوڑ دیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اتوار کی شب کو گٹ پیوچار اور آس پاس کی پہاڑوں پر واقع مقامی طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو رات بھر بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا جس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ |