’فوج انتظامیہ تعینات کرے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے کہا ہے کہ آٹھ جنوری کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران فوج امن و امان کے لیے موجود رہے گی اور اگر امن و امان کی صورت حال خراب ہوجائے تو ان علاقوں میں فوج کی تعیناتی سول انتظامیہ کے حکم پر ہوگی۔ بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں نے ایسے پولنگ اسٹیشنوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جنہیں حساس قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے ضلع وار یہ فہرستیں مرتب کی ہیں اور اس ضمن میں پنجاب اور قبائلی علاقوں سے فہرستیں وزارتِ داخلہ کو موصول ہوچکی ہیں جبکہ باقی صوبے بھی یہ فہرستیں تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ صوبوں میں کتنی فوج بھیجی جائے گی لیکن اس کا فیصلہ حساس پولنگ اسٹیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسے پولنگ اسٹیشن ہیں جہاں پر جھگڑے فسادات ہوتے رہتے ہیں اور ان انتخابی حلقوں کی تاریخ دیکھ کر وہاں پر فوج بھیجی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز مقامی انتظامیہ کی مدد کے لیے موجود ہوگی۔ اور اگر وہاں پر حالات خراب ہوجائیں تو پھر مقامی سول انتظامیہ کی درخواست پر امن و امان کا کنٹرول فوج سنبھال لے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج فلیگ مارچ میں بھی حصہ لے گی لیکن یہ صرف امن و امان کنٹرول کرنے کے لیے ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں حامد نواز نے کہا کہ تمام صوبوں نے اپنے علاقوں میں انتخابات کے دوران پولیس ، رینجرز اور فوج کی تعیناتی کے بارے میں وزارت داخلہ کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ مقامی انتظامیہ نے ہی کرنا ہے کہ کن علاقوں میں پولیس تعینات ہوگی اور کن حساس علاقوں میں فوج تعینات کی جائے گی اور وفاقی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اس سے پہلے یہ خبریں آرہی تھیں کہ سندھ حکومت اس بات پر غور کررہی ہے کہ پولیس فورس میں کمی کی وجہ سے انتخابات کے دوران نجی سیکورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے رضار کار فورس بنانے کی بھی بات کی تھی جسے پیپلز پارٹی کی چیرپرسن نے غنڈہ فورس قرار دیا تھا۔ برطانیہ طیارہ سازش کیس کے مبینہ مرکزی کردار راشد رؤف کی پولیس کی تحویل سے فرار کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی چار رکنی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ مکمل کر لی ہے تاہم حتمی رپورٹ تیار کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ اس میں ان لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا جن کی تحویل سے فرار ہوا ہے اور جیل کا عملہ بھی آئے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ راشد رؤف بیرون ملک فرار ہوگیا ہو کیونکہ اس کو کافی وقت مل گیا تھا۔ انہوں نے کہا اگر راشد رؤف بیرون ملک جا سکتا ہے تو وہ گاڑی پر ہی جا سکتا ہے البتہ ہوائی جہاز پر اس کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ | اسی بارے میں ایس ایم ایس سے انتخابی مہم22 December, 2007 | پاکستان ’خصوصی پولیس فورس نامنظور‘23 December, 2007 | پاکستان جلسوں کی براہ راست کوریج نہیں24 December, 2007 | پاکستان نواز لیگ کے انتخابی کیمپ سے19 December, 2007 | پاکستان ’نگران حکومت کا حلف غداری‘16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||