لاہور: ’باغی‘ جج پھر نظر بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے لاہور ہائی کورٹ کے جج خواجہ محمد شریف کو تین دن کے لیے گھر پر نظر بند کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت نے خواجہ شریف کی نظربندی کے احکامات ایک ایسے موقع پر جاری کیے ہیں جب وہ لاہور ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرنے والے تھے۔ جسٹس خواجہ محمد شریف نے نظربندی کے باوجود بار سے ٹیلیفونک خطاب کیا اور کہا کہ آج آئین کو موم کی ناک بنا لیا گیا ہے اور ایک شخص اس میں من مانی تبدیلیاں کر رہا ہے۔ جسٹس خواجہ شریف نے اپنے بیس منٹ کے خطاب میں کہا کہ آمریت اور فرد واحد کی حکمرانی اسلام اور جمہوریت کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے جب آئین کو فرد واحد کے ذاتی مقاصد کے سانچے میں ڈھالا جانے لگتا ہے تو ریاست کے اداروں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجاتی ہے۔
جسٹس خواجہ شریف نے افسوس کا اظہار کیا کہ عدلیہ نے آئین کی سربلندی اور توقیر کے لیے مثالی کردار ادا نہیں کیا۔ان کے بقول وکلاء کا عزم ایک تحریک کے سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہے اور ایک نئے پاکستان کے نقوش ابھر رہے ہیں جہاں آئین، قانون اور انصاف کی حکمرانی ہوگی اور کوئی فرد واحد آئین کو کھلونا نہیں بنا سکے گا۔ جسٹس خواجہ شریف کے ٹیلی فونک خطاب کے وکلا نے ان کی نظربندی کے خلاف پی ایم جی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ وکلا نے صدر مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر وکلاء نے مسلم لیگ قاف کے انتخابی بینرز کو آگ لگا دی جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ قبل ازیں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج کے صاحبزادے خواجہ لطیف کے مطابق لاہور پولیس کے اہلکار پیر کی رات کو ان کے گھر آئے اور انہوں نے خواجہ شریف سے ان کی نظر بندی کے احکامات کی تعمیل کرانے کی کوشش کی۔ تاہم انہوں نے ان احکامات کو وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم پولیس نے ان کی رہائش گاہ کو جانے والے تمام راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا تھا اور اس علاقے میں غیر متعلقہ اشخاص کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا۔ منگل کی صبح کو جب وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو خواجہ شریف کی نظربندی کا پتا چلا تو وہ ایس بلاک ڈیفنس میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ پولیس کے ساتھ مذاکرات کے بعد لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احمد اویس سمیت پانچ افراد کو خواجہ شریف سے ملنے کی اجازت دی۔ ملاقات میں یہ طے پایا کہ خواجہ شریف نظربندی کے احکامات کی وجہ سے وہ خود لاہور بار نہیں جائیں گے بلکہ ٹیلی فون کے ذریعے بار کے ارکان سے خطاب کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||