’اکثریت مشرف کا استعفیٰ چاہتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک غیرسرکاری امریکی تنظیم کے تازہ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت ہنگامی حالت کے نفاذ کے جواز میں دی گئی صدر پرویز مشرف کی وجوہات سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے استعفے کی خواہاں ہے۔ سپریم کورٹ کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت نئے ججوں کی تقرری کی بھی واضح مخالفت دیکھنے میں آئی ہے۔ انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ یا آئی آر آئی نامی اس تنظیم نے یہ سروے انیس سے اٹھائیس نومبر کے درمیان کیا جس میں چاروں صوبوں کے اکاون اضلاع میں ساڑھے تین ہزار سے زائد پاکستانیوں سے ہنگامی حالت سے پیدا ہونے والی صورتحال پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ یہ تنظیم دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے لیے سیاسی جماعتوں اور عوامی اداروں کی ترقی اور قانون کی بالادستی جیسے اہداف کے حصول کے لیے کام کرتی ہے۔ اس سروے کو ہنگامی حالت کے بعد عوامی رائے کو کسی سروے کے ذریعے جاننے کی پہلی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت نے تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے فیصلے کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے عوام کو دو واضح بلاکوں میں تقسیم کر دیا۔ پچیس فیصد صدر مشرف کے حامی دکھائی دیتے ہیں لیکن تقریبا پچھتر فیصد ان کے حالیہ اقدامات پر نالاں ہوتے ہوئے ان کے استعفے کے حق میں پائے گئے ہیں۔ ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف ملک میں جاری احتجاج کی باسٹھ فیصد افراد نے حمایت کی جبکہ اس کے تحت عام انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کا بھی تناسب یہی رہا۔ ستر فیصد افراد کے خیال میں ملک صحیح سمت میں نہیں جا رہا۔ جب ان افراد سے ان کی گزشتہ ایک برس میں اقتصادی حالت کے بارے میں پوچھا گیا تو اکاون فیصد کا کہنا تھا کہ اس میں ابتری آئی ہے جبکہ آئندہ برس کے بارے میں بھی زیادہ کا خیال تھا کہ اس میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اس جائزے کے مطابق صدر مشرف کی مقبولیت میں کمی برقرار رہی اور بہتر فیصد نے ان کے دوبارہ انتخاب کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ تاہم صدر مشرف کی حمایت کے گڑھ سمجھے جانے والے پنجاب کے دیہی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ان کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ان افراد کے خیال میں پاکستان کی ناؤ کون سا سیاستدان پار لگا سکتا ہے، آئی آر آئی کے جائزے کے مطابق اکتیس فیصد نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو، پچیس فیصد مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف اور تیئس فیصد نے صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے جائزے اگرچہ عمومی طور پر درست ثابت ہوتے ہیں لیکن ان میں غلطی کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||