پنڈی حملے: شناخت کا عمل شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو راولپنڈی میں مری روڈ پر واقع حمزہ کیمپ (سابقہ اوجڑی کیمپ) میں حساس ادارے پر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) میں ہوں گے۔ حمزہ کیمپ میں ہونے والے خود کش حملے کا نشانہ حساس ادارے کی ایک بس بنی تھی جس کے عقب میں آنے والی ایک گاڑی اس سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے پھٹ گئی تھی جس سے بس کو آگ لگ گئی۔ حملے کے وقت بس میں تقریباً پچاس افراد سوار تھے۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق اس حملے میں ستائیس افراد ہلاک ہوئے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل ارشد وحید کے مطابق اس حملے میں پندرہ افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تعداد محکمہ دفاع کے ملازمین کی ہے۔ حساس اداروں کے اہلکاروں نے اس حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں سے رابطہ کیا ہے اور انہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سی ایم ایچ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ سنیچر ہی کو دوسرا خودکش حملہ جی ایچ کیو کے قریب ہوا تھا۔ جی ایچ کیو کے حملہ آور کا چہرہ قابل شناخت ہے جس کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سی ایم ایچ بھجوا دیا گیا ہے۔ ان دھماکوں کی تفتیش کے حوالے سے سی سی پی او راولپنڈی ڈی آئی جی سعود عزیز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آئی ایس پی آر ان دھماکوں کی تفتیش کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کرے گی۔ تاہم راولپنڈی پولیس کے ایک اعلٰی افسر کے مطابق ان دونوں حملوں کے مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں اور حمزہ کیمپ حملے کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں جبکہ جی ایچ کیو حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایس پی راولپنڈی یاسین فاروق کی سربراہی میں تین تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور پولیس اور ایف آئی اے کے خصوصی تفتیشی شعبے کے اہلکار ان دھماکوں کے تحقیقات کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں دو خود کش حملے، تیس ہلاک24 November, 2007 | پاکستان ’خودکش حملے اور ہمسایہ ملک‘24 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان راولپنڈی :خود کش حملہ، 7 ہلاک30 October, 2007 | پاکستان خودکش بمباروں پر وفاقی وارننگ22 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||