مرحوم صحافی کے گھر پر بم حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصل میر علی میں مرحوم صحافی حیات اللہ کے گھر کے باہر بم کے ایک دھماکے میں ان کی بیوی ہلاک ہو گئی ہیں۔ مرحوم صحافی حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے بتایا کہ دھماکے گھر کی دیوار کے ساتھ نصب ایک بم سے کیا گیا۔ احسان اللہ نے بتایا کہ دھماکے میں حیات اللہ کے بچے بال بال بچ گئے ہیں۔ احسان اللہ نے اس دھماکے کا ذمہ دار بھی ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا جنہوں نے گزشتہ سال حیات اللہ کو اغواء کرکے قتل کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ حیات اللہ کو دسمبر دو ہزار پانچ میں شمالی وزیرستان سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ حیات اللہ کی چھ ماہ تک گمشدگی کے بعد جون میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔ مقامی طالبان نے حیات اللہ کی ہلاکت کی مذمت کی تھی۔ حیات اللہ میر علی میں ایک مکان پر حکومت کی جانب سے القاعدہ کے خلاف کارروائی کی کوریج کے بعد لاپتہ ہوئے گئے تھے۔ حکومت کا بعد میں کہنا تھا کہ مرنے والوں میں القاعدہ کا ایک کمانڈر ابو حمزہ بھی شامل تھا۔ ان ہلاکتوں کی وجوہات اب تک غیرواضح ہیں۔ جس مکان میں یہ ہلاکتیں ہوئیں وہ حیات اللہ کے ماموں کا گھر بتایا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد حیات اللہ نے اپنی رپورٹوں میں شواہد کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ہلاکتیں کسی طیارے سے داغے گئے میزائلوں سے ہوئی تھی۔ یہ مؤقف سرکاری بیان کی نفی کرتا ہے جس میں یہ ہلاکتیں مکان میں دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے قرار دی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے قتل پر ملک گیر یومِ سیاہ19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کا قتل‘ طالبان کا انکار20 June, 2006 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||