ایمرجنسی:اسلام آباد میں مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف گیارہویں روز بھی مظاہرے جاری رہے۔ بدھ کواسلام آباد میں یونیورسٹی کے طلبہ اور سول سوسائٹی اور صحافیوں نے ہنگامی حالت کے نفاذ اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف اور آئین کی بحالی کے حق میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی میں ایک سو سے زائد طلبہ و طالبات نے ہنگامی حالت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور فوج کے خلاف نعرے لگائے۔ طلبہ و طالبات نے اپنے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ ایک پلے کارڈ پر یہ درج تھا کہ’فوجی آمریت نامنظور، مارشل لاء نامنظور’جبکہ دوسرے پر لکھا تھا ’مقدمے چلے عدالت میں شہر کے شہر حراست میں۔‘ اگرچہ اس مظاہرے میں طلبہ و طالبات کی تعداد کم تھی لیکن وہ خاصے پرجوش تھے۔
اس مظاہرے میں شامل قائداعظم یونیورسٹی میں معاشیات کے طالب علم مطیع الرحمان نے کہا کہ وہ دیگر یونیورسٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جلد ہی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ ہنگامی حالت کے نفاذ اور جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ اسی دوران اسلام آباد میں آبپارہ میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی ہنگامی حالت کے خلاف اور آئین کی بحالی کے حق میں مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں زیادہ تر خواتین اور سکولوں کی بچیاں شریک ہوئیں۔ انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ہنگامی حالت کے نفاذ اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف اور جمہوریت اور آئین کی بحالی کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین یہ مطالبہ کررہے تھے کہ زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں علامتی طور پر گلاب کے پھول تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ پھول ان ججوں کے لیے ہیں جہنوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور ان وکلاء کے لیے جو فوجی حکمران کے سامنے ڈٹ گئے۔
اس مظاہرے میں شریک وومن ایکشن فورم اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رکن طاہرہ عبداللہ نےمطالبہ کیا کہ جنرل پرویز مشرف حکومت چھوڑ دیں اور آئین، جمہوریت اور تین نومبر سے پہلے والی سپریم کورٹ کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے۔طاہرہ عبداللہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مغربی ممالک پرویز مشرف پر دباؤ ڈالنے کے لیے فوجی مدد بند کریں۔ اسلام آباد میں انگریزی اخبار ڈان کے دفتر کے باہر صحافیوں نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا۔انہوں نے بازؤں پر سیاں پٹیاں باندھی تھیں اور پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر میڈیا کی آزادی کے حق میں نعرے درج تھے۔ | اسی بارے میں کراچی، صحافیوں کا احتجاج جاری14 November, 2007 | پاکستان ’بدامنی ختم ہوگی تو چلا جاؤں گا‘14 November, 2007 | پاکستان بینظیر کے بیان کا خیرمقدم14 November, 2007 | پاکستان سندھ میں احتجاجی مظاہرے، گرفتاریاں14 November, 2007 | پاکستان پاکستان کے ادارے بکھرنے کا خطرہ15 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||