BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 October, 2007, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: لاپتہ اہلکاروں کی بازیابی

سوات سکیورٹی اہلکار
ہماری ایک چھوٹی سے ٹیم لاپتہ تھی: آئی جی پولیس
صوبائی حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین عارضی جنگ بندی کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لاپتہ اہلکاروں کی بازیابی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق آٹھ اہلکاروں کو سوات میں گلے کاٹ کر ہلاک کرنے کے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بارے میں بی بی سی کو بتاتے ہوئے صوبہ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس شریف ورک نے کہا کہ ’ وہ جانے پہچانے لوگ ہیں اور ان کے کوائف خفیہ تحقیقاتی اداروں کے پاس پہلے سے موجود تھے۔اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔‘

سرکاری ذرائع کے مطابق اتوار کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران چند اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم لاپتہ ہوگئی تھی ۔ تاہم یہ اہلکار اتوار اور پیر کی درمیانی شب ضلعی صدر مقام مینگورہ سے خوازخیلہ کی جانب سنگوٹہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالے نیم فوجی اور پولیس دستوں پر مشتمل قافلے سے بخیریت جا ملے۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیم کے لاپتہ ہونے اور بعد میں ان کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔

انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ عارضی جنگ بندی کے لیے کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا، البتہ اُن کا کہنا تھا کہ عارضی جنگ بندی ضروری تھی کیونکہ دو طرفہ بنیادوں پر لاپتہ افراد کی تلاش کرنا مقصود تھا۔

جب اُن سے پوچھا کہ ’دو طرفہ بنیادوں‘ سے اُن کی کیا مراد ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہماری ایک چھوٹی سے ٹیم لاپتہ تھی جبکہ اُن کے بھی لوگ لاپتہ تھے۔‘

تین سو نہیں چند اہلکار
 اتوار کی جھڑپوں کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کےتین سو آٹھ اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے جب انسپکٹر جنرل پولیس سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ ’مسنگ ٹیم‘ میں چند لوگ تھے

اتوار کی جھڑپوں کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کےتین سو آٹھ اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے جب انسپکٹر جنرل پولیس سے پوچھا کہ کیا لاپتہ ہونے والے اہلکاروں کی تعداد تین سو سے زائد تھی تو انہوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ ’مسنگ ٹیم‘ میں چند لوگ تھے۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں امن کے قیام کے لیے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے اور جن لوگوں نے علاقے کے امن کو تہہ و بالا کیا اُن کو قانون کے شکنجے میں لانا ابھی باقی ہے۔ البتہ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور حکومت جائز مطالبات سننے کو تیار ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس شریف ورک کے مطابق حکومت سوات میں دو سال پہلے والی پُر امن صورِحال بحال کرنا چاہتی ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بات چیت اور پُر امن طریقے سے سوات کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی سے وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران سوات کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ صوبائی حکومت کی مدد کی جا رہی ہے تا کہ سوات میں امن کا قیام بات چیت کے ذریعے ممکن ہو سکے۔

سوات میں جاری کشیدگی کے پُرامن حل کے لیے حکومت نے صوبہ سرحد کے دوسرے متعلقہ اضلاع کے علماء کرام سے بھی مدد کرنے کو کہا ہے۔ اس سلسلے میں سوات سے ملحقہ ضلع کوہستان میں سرکردہ مذہبی رہنماؤں سے ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ رابطہ ہونے پر کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعت محمدی کے حکومت سے بر سرِ پیکار اہم رہنما مولانا فضل اللہ کو مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنے کا کہا جائے۔

اس حوالے سے ضلع کوہستان کے سپرنٹینڈنٹ پولیس عالم زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اطلاعات کے بعد کہ حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ ضلع کوہستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، انہوں نے ضلع کے سرکردہ مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کی اور اُن سے کہا کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے حکومت سے تعاون کریں اور کسی ایسے شخص کو پناہ نہ دیں جس سے علاقے کا امن خراب ہو۔

مولانا فضل اللہ کی ضلع کوہستان میں موجود ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ایس پی عالم زیب نے کہا کہ بعض اطلاعات کے تناظر میں ضلع کوہستان کے علاقے پتن میں مولانا فضل اللہ کی موجودگی کے حوالے سے چھان بین کی گئی ہے۔

انہوں نے دعوی ٰ کیا کہ ’مولانا فضل اللہ ضلع کوہستان میں نہیں ہیں اگر وہ عورتوں کی طرح برقعے میں ضلع میں داخل ہوئے ہوں تو پھر کچھ کہنا مشکل ہے ورنہ سڑک کے راستے ضلع کوہستان میں ان کا داخل ہونا خارج از امکان ہے۔‘

وادی سواتسوات کی تجارت
سوات میں تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر
سوات میں تشدد
سوات شدت پسندوں کا فرنٹ لائن کیسے بنا؟
عینی شاہدین
لوگ مدد کے لیے چیختے چلاتےرہے
سوات ہلاکتیں
ایف سی کے قافلے پر حملے میں کئی ہلاک
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد