BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 October, 2007, 01:21 GMT 06:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی انتخابی فہرستوں کا اجراء

انتخابی فہرستوں میں سے دو کروڑ ووٹر کے نام درج نہیں تھے
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2006-07ء کی کمپیوٹرائزڈ حتمی انتخابی فہرستیں جمعہ کو تمام ملک میں دوبارہ آویزاں کی جا رہی ہیں۔

جمعرات کو یہاں ایک بیان میں سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے اس سلسلہ میں احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

یہ انتخابی فہرستیں ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں رجسٹریشن آفیسرز اور اسسٹنٹ الیکشن کمشنرز کے دفاتر میں عام لوگوں کے معائنہ کیلئے آویزاں کی جائیں گی جبکہ صوبائی الیکشن کمشنرز اور رجسٹریشن آفیسرز کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنائیں تاکہ انتخابی فہرستیں آویزاں کرنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی درخواست پر گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر انتخابی فہرستوں میں ان تمام ووٹروں کے نام بھی شامل کرے جن کے نام قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی بناء پرشامل نہیں کئے جاسکے تھے۔
ایک اندازے کے مطابق غائب ووٹروں کی تعداد کوئی دو کروڑ 20 لاکھ بنتی تھی۔

کمیشن کو خدشہ ہے کہ ایک آدمی کا نام اس کے ِ آبائی گاؤں یا علاقے سے بھی درج ہوسکتا ہے جبکہ جس شہر یا مقام پر وہ اپنے روزگار کے سلسلہ میں رہتا ہے وہاں بھی فہرست میں اس کا نام شامل ہوگیا ہو۔

دوسرا ایسے لوگوں کا پتہ چلانے کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ نہیں ہے جو سابقہ فہرست کی اشاعت کے بعد سے انتقال کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک ایسی فہرست جو ہر اعتبار سے قابل اعتماد ہو اور جس میں غلطیاں کم سے کم ہوں صرف قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرہ کے تعاون سے ہی بنائی جاسکتی ہے اس لئے اس کا ’ڈیٹا بیس‘ خاصہ تفصیلی مانا جاتا ہے اوراس سے کسی بھی شخص کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن اس سے انتخابی کمیشن کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی آئینی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹ میں سے تین کروڑ اہل ووٹر غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری اداروں، پلڈٹ، این ڈی آئی اور پیپلز پارٹی نے انیس اضلاع میں مشترکہ سروے کیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ درج ہونے والے ووٹروں میں چھبیس فیصد ووٹر بوگس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین کروڑ اہل ووٹروں اور چھبیس فیصد بوگس ووٹروں کے اندارج کو ذہن میں رکھا جائے تو چھپن فیصد اہل ووٹر کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

ادھر صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے جمعرات کو یہاں صدارتی کیمپ آفس میں ملاقات کی اور عام انتخابات کیلئے کئے جانے والے انتظامات، الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مسودے اور انتخابات سے قبل سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ضرورت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق دونوں رہنماوں نے انتخابات کے شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی گفتگو کی۔

اسی بارے میں
فوج اور عدلیہ تنقید سے مبرا
24 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد