احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | بینرز صرف سرکاری عمارتوں پر سے ہٹانے ہونگے |
وزیراعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے شہری حکومت کو بے نظیر بھٹو کی آمد سے قبل کراچی سمیت صوبے میں سرکاری عمارتوں پر لگائے گئے پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام جھنڈے، استقبالیہ بینرز اور پورٹریٹس اتارنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم محکمۂ داخلہ کے سیکریٹری غلام محمد محترم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ سڑکوں اور عمارتوں پر لگائے گئے تمام جھنڈے اور بینرز ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے، البتہ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صرف سرکاری عمارتوں پر لگائے گئے پارٹی جھنڈے، بینرز اور ہورڈنگس ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینٹونمینٹ بورڈز سمیت بعض دیگر وفاقی سرکاری اداروں نے ان کی عمارتوں پر لگائے گئے جھنڈوں اور ہورڈنگز پر اعتراض کیا تھا جس پر وزیر اعلی نے انہیں ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے نے صوبے کے تمام کنٹونمینٹ بورڈز اور ضلعی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں سرکاری عمارتوں پر آویزاں کیے گئے پورٹریٹس، پارٹی جھنڈے اور بینرز وغیرہ ہٹادیں اور پولیس کو اس کارروائی میں ان اداروں کی مدد کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جاسکے۔  |  صوبے کے تمام کنٹونمینٹ بورڈز اور ضلعی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں سرکاری عمارتوں پر آویزاں کیے گئے پورٹریٹس، پارٹی جھنڈے اور بینرز وغیرہ ہٹادیں اور پولیس کو اس کارروائی میں ان اداروں کی مدد کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جاسکے۔  داخلہ سیکریٹری غلام محمد محترم |
بے نظیر بھٹو نے اٹھارہ اکتوبر کو کراچی آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان کی آمد سے قبل شہر بھر میں استقبالیہ نعروں پر مبنی وال چاکنگ کی گئی ہے، بینرز آویزاں کیے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں پارٹی جھنڈے اور بے نظیر بھٹو کی بڑی بڑی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں جبکہ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔وزیر اعلی کی ہدایات کے بعد اب تک شہر میں کہیں بھی ایسی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی ہے کہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمینٹ یا کسی کنٹونمینٹ بورڈ کے عملے نے سرکاری عمارتوں سے پی پی کے جھنڈے، بینرز اور تصاویر ہٹائی ہوں۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پی پی پی کے رہنما نثار احمد کھوڑو نے وزیر اعلی کی ان ہدایات کی مذمت کی اور کہا کہ یہ حکم ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ بے نظیر بھٹو جیسی قدآور شخصیت جب پاکستان پہنچیں گی تو وزیر اعلی اور ان کی پارٹی کوئی نام لیوا باقی نہیں رہے گا اسی لئے وہ خود کو زندہ رکھنے کے لئے اس طرح کے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ زبانی ہدایات ہیں جس سے بے نظیر بھٹو کی مقبولیت اور ان کے استقبال کی تیاریوں میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں کے پورٹریٹس بھی لگتے ہیں اور خود وزیر اعلی کے پورٹریٹس لگے ہوئے ہیں، انہیں ہٹانے کی انہوں نے کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا: ’لوگوں نے اپنے قومی لیڈر کے اسقبال کے لئے موڈ بنایا ہے اور ان کی خوشی ہر ایک کو دکھائی دے رہی ہے جس سے حکومت خائف ہے لیکن لوگ اسکی اجازت نہیں دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جو جھنڈے اور بینرز لگائے ہیں وہ انہوں نے دل سے لگائے ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ |